کربلا کی سرزمیں پر 13 محرم الحرام کو منائے جانے والے تاریخی دن کی مناسبت سے، امام مظلوم اور ان کے باوفا اصحاب و انصار کے اجسادِ طاہرہ کی تدفین کی یاد تازہ کرنے کے لیے قبیلہ بنی اسد اور عراق کے دیگر غیرت مند قبائل و عشائر کے روایتی ماتمی جلوسوں (مواکبِ عزاء) کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
اس تاریخی اور مروجہ عزاداری کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
1۔ عزاداری کا تاریخی پس منظر
عراقی ثقافت اور تاریخ میں 13 محرم الحرام کا دن ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ سنہ 61 ہجری میں سانحہ کربلا کے بعد، جب بنی امیہ کا لشکر شہدا کے سروں کو نیزوں پر بلند کر کے لے گیا، تو قبیلہ بنی اسد کی خواتین اور مردوں نے (امام زین العابدین علیہ السلام کی راہنمائی میں) مقتلِ کربلا پہنچ کر امام حسینؑ اور دیگر شہدائے وفادار کے پاک اجساد کی تدفین کا شرف حاصل کیا تھا۔ اسی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں قبائل کربلا کا رخ کرتے ہیں۔
2۔ جلوسوں کا روایتی انداز اور آغاز
خواتین کی پیش قدمی: اس عزاداری کا سب سے منفرد اور گداز پہلو یہ ہے کہ جلوس کی ابتدا قبیلہ بنی اسد اور دیگر قبائل کی خواتین کے ایک بہت بڑے مجمع سے ہوتی ہے۔ یہ خواتین سروں پر خاک اڑاتی، بین کرتی اور تدفین کے لیے علامتی بیلچے اور چٹائیاں اٹھائے برآمد ہوتی ہیں، جو تاریخ کے اس جگر سوز منظر کی عکاسی کرتا ہے۔عشائرِ عراق کی شرکت: خواتین کے بعد عراق کے تمام بڑے قبائل اور عشائر کے مردوں کے وفود باری باری اپنے روایتی پرچم (بیارق) اٹھائے، ماتم کرتے اور نوحہ خوانی کرتے ہوئے جلوسوں کی شکل میں شامل ہوتے ہیں۔3۔ روٹ اور سیکیورٹی و انتظامی انتظامات
یہ جلوس کربلا کے مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے حرمِ مطہرِ سید الشہداء حضرت امام حسین (علیہ السلام) اور حرمِ مطہرِ علمدارِ کربلا حضرت ابوالفضل العباس (علیہ السلام) میں داخل ہوتے ہیں۔
حرم مقدس حسینی کا عملہ، سیکیورٹی فورسز اور میڈیکل کیمپس اس عظیم اور لاکھوں کے مجمعے کو سنبھالنے، زائرین کی آمد و رفت کو منظم کرنے اور انہیں ہر ممکنہ سہولیات (طبی و علاجی) فراہم کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ پر مامور ہیں۔یہ دن کربلا میں عاشورہ اور رکضۃ طویریج کے بعد عزاداری کا تیسرا سب سے بڑا اور اہم ترین اجتماع مانا جاتا ہے، جہاں دنیا بھر سے آئے زائرینِ کرام اس لرزہ خیز تاریخ کی یاد میں شریکِ غم ہوتے ہیں۔
