حرم مقدس حسینی کے شعبہ حفظِ نظام (نظم و ضبط) نے سال 2026ء کی زیارتِ اربعین کے موقع پر زائرین کی حفاظت اور ان کی آمد و رفت کو منظم بنانے کے جامع منصوبے کے تحت فراہم کردہ سیکیورٹی، لاجسٹک اور انسانی خدمات کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔
شعبے کے سربراہ جناب رسول فضالہ نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "شعبے کے عملے نے لاکھوں زائرین کی دیکھ بھال کے لیے ایک جامع سیکیورٹی اور انتظامی منصوبے کے تحت کام کیا۔ اس کے تحت 7,000 سے زائد رضاکاروں کی خدمات حاصل کی گئیں اور 2,000 سے زائد مستقل اہلکاروں کو ڈیوٹی پر تعينات کیا گیا۔ علاوہ ازیں، غیر عرب زبان بولنے والے زائرین سے رابطے کے لیے صحنِ شریف کے دروازوں، داخلی راستوں اور امانات کے مراکزل پر 200 مترجمین بھی تعینات کیے گئے سن۔"
انہوں نے مزید بتایا کہ "لاجسٹک خدمات میں 1,500 کیپیسٹی والی 18 امانات کنٹینرز کا قیام، اور معذور افراد کے لیے 240 وہیل چیئرز کی فراہمی شامل تھی۔ اس کے علاوہ 400 اہلکاروں اور رضاکاروں کو حرم اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں زیارت کے آداب اور زائرین کے ہجوم کی نقل و حرکت کو منظم رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔"
سیکیورٹی اور ٹیکنالوجی کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "اس جدید نظام کی مدد سے 600 مختلف سیکیورٹی معاملات کو حل کیا گیا، اور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی 2,573 سی سی ٹی وی کیمرے باہم منسلک کیے گئے۔ آگ بجھانے کے لیے قائم شدہ آلات کے ساتھ ساتھ 235 موبائل فائر ایکسٹینگوشرز متحرک کیے گئے، جبکہ کربلا کی سول ڈیفنس ڈائریکٹوریٹ کے ساتھ براہِ راست تعاون سے 6 مستقل اور 3 موبائل فائر فائٹنگ یونٹس تشکیل دیے گئے۔"
انہوں نے واضح کیا کہ "سیکیورٹی کے سخت اقدامات کے تحت دھماکہ خیز مواد کی نشان دہی کے لیے 22 عدد 'IDE' ڈیوائسز اور 'RAPISCAN XR' ماڈل کے 5 جدید ترین اسکیننگ ڈیوائسز کا استعمال کیا گیا۔ مزید برآں، ایک فارنسک لیبارٹری قائم کی گئی اور بم ڈسپوزل روبوٹس سمیت تفتیش و معائنے کے لیے خصوصی 'سنیفر' آلات بروئے کار لائے گئے۔"
زائرین کو فراہم کی جانے والی براہِ راست سہولیات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ "بچوں اور بزرگوں کی حفاظت کے پیشِ نظر 1,500 شناختی رسٹ بینڈز (سوار الید) باندھے گئے، عربی، فارسی اور انگریزی تین زبانوں میں 'دلیل زائر الحسین' بروشر کی 600 کاپیاں تقسیم کی گئیں، اور فراہم کردہ خدمات پر زائرین کی رائے اور اطمینان کا اندازہ لگانے کے لیے 560 سروے فارمز بھی تقسیم کیے گئے۔"
یہ تمام کاوشیں حرم مقدس حسینی کے اس عزم کا حصہ ہیں جس کا مقصد مادی وسائل، انسانی وسائل اور جدید ترین ٹیکنالوجی کو برسرِِ پیکار لا کر ملینین زیارت کی سیکیورٹی، زائرین کی ہموار نقل و حرکت اور اعلٰی ترین سطح کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
