حرم مقدس حسینی کے سیکرٹری جنرل جناب حسن رشيد جواد العبايجی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ "زیارتِ اربعین ایک ایسا عالمگیر انسانی اجتماع ہے جو حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے قائم کردہ اقدار اور اصولوں کو مجسم کرتا ہے۔" ان خیالات کا اظہار انہوں نے حرم مقدس حسینی کے کربلا سینٹر فار اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے تحت منعقدہ دسویں بین الاقوامی سائنسی کانفرنس برائے زیارتِ اربعین کی افتتاح تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
حرم مقدس حسینی کے سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ "اس سال زیارتِ اربعین میں تقریباً 20 ملین (دو کروڑ) زائرین نے شرکت کی، جن میں 172 سے زائد ممالک کے 5 ملین (پچاس لاکھ) سے زائد عرب و غیر ملکی زائرین شامل تھے۔ یہ زائرین مختلف قومیتوں، ادیان اور مذاہب سے تعلق رکھتے تھے،" انہوں نے مزید کہا کہ "یہ تمام ہجوم حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قائم کردہ انسانی اقدار کے احیاء کے لیے اکٹھا ہوا۔"
انہوں نے وضاحت کی کہ "نہضتِ حسینی نے انسانی اور اسلامی اقدار کی بنیاد رکھی، جن میں ظلم کا رد، حق اور مظلوموں کی نصرت، امر بالمعروف و نہی عن المنكر، اور انسانی کرامت و حقوق کا احترام سب سے نمایاں ہیں۔"
انہوں نے اس بات کو بھی نمایاں کیا کہ "زیارتِ اربعین اخوت، بھائی چارے اور باہمی تعاون کی ایک عالمگیر مثال بن چکی ہے، جس میں مختلف قومیتوں، ادیان اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد کی شرکت امام حسین (علیہ السلام) کے انسانی پیغام کے آفاقی ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔"
ان کا کہنا تھا کہ "نہضتِ حسینی کے اثرات واقعہ کربلا سے آگے بڑھ کر آزادی، عدل، اور ظلم و طغیان کے خلاف جدوجہد کا پیغام بن چکے ہیں،" اور یہ کہ "امام حسین (علیہ السلام) کے اصول آج بھی اقوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔"
واضح رہے کہ زیارتِ اربعین کی دسویں بین الاقوامی سائنسی کانفرنس کا مقصد زیارت کے فکری، انسانی اور تہذیبی پہلوؤں کا جائزہ لینا ہے، جس میں عراق اور بیرونِ ملک سے متعدد محققین اور ماہرینِ تعلیم شرکت کر رہے ہیں۔
