مرجعیتِ عظمیٰ کا ارشاد: امید ہے کہ قرآن کریم کا اثر انسان کی شخصیت میں ظاہر ہوگا، نہ کہ یہ صرف حفظ اور تلاوت تک محدود رہے گا

مرجعیتِ عظمیٰ کے نمائندے شیخ عبدالمهدی کربلائی نے قرآن کریم کی تعلیم کے سفر میں وسائل اور مقاصد کے درمیان فرق کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ یہ بات انہوں نے بین الاقوامی قرآنی بلیٹن سینٹر (حرم مقدس حسینی کے ماتحت) کے زیر اہتمام قرآنی صلاحیتوں کے نویں ترقیاتی پروگرام کے طلبہ سے ملاقات کے دوران کہی۔

شیخ کربلائی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ حفظ، تلاوت اور تجوید میں مہارت حاصل کرنا بذات خود حتمی مقصد نہیں بلکہ یہ مقاصد تک پہنچنے کے ذرائع اور وسائل ہیں، اور اصل ہدف قرآن کریم کے معانی کو سمجھنا، اس کی آیات میں تدبر کرنا اور ان پر عمل کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قرآنی شخصیات کو چاہیے کہ وہ علم کے حصول کے بعد عملی زندگی میں بھی اس کا نمونا پیش کریں تاکہ ان کی سیرت و کردار میں تقویٰ، عبادات اور اخلاق کا واضح اثر دکھائی دے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ قرآن کریم ہدایت کی کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے نازل فرمایا ہے، اس لیے قرآنی طلبہ کی یہ سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے احکامات پر عمل پیرا ہوں۔ انہوں نے طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ حفظ و تجوید کے ساتھ ساتھ فہمِ قرآن، تفکر، تدبر اور عملی نفاذ پر بھرپور توجہ دیں تاکہ معاشرے کے اندر ایک عملی نمونہ اور قابلِ تقلید شخصیت بن سکیں۔ آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ طلبہ اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور مستقبل میں اپنے علاقوں میں قرآنی کورسز کا آغاز کر کے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اسلامی معاشرے کی فکری و اخلاقی تعمیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔