مسابقاتِ کتب بینی معاشرے میں مطالعے اور معرفت کے فروغ کا ذریعہ ہیں: نمائندہ اعلیٰ دینی مرجعیت

اعلیٰ دینی مرجعیت کے نمائندے، شیخ عبد المہدی الکربلائی نے کتب بینی کے مقابلوں کے انعقاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مقابلے معاشرے کے افراد، بالخصوص ملازمین اور طلبہ کو مطالعے کی ترغیب دینے اور علم و ثقافت کی اہمیت کا شعور اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات حرم مقدس حسینی کے ملازمین کے لیے منعقدہ مسابقہ "أمّة تقرأ" (پڑھنے والی قوم) کے منتظمین اور شرکاء سے ملاقات کے دوران کہی۔

اعلیٰ دینی مرجعیت کے نمائندے نے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ "اس مقابلے کا خیال دیگر ممالک کے ان تجربات کے مشاہدے کے بعد سامنے آیا جہاں مطالعے کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں اور طلبہ و طالبات ان میں حصہ لے کر نمایاں پوزیشنز حاصل کرتے ہیں"۔ انہوں نے واضح کیا کہ "عراق اپنے شاندار تہذیبی و فکری ورثے اور پیروانِ مکتبِ اہلِ بیت (علیہم السلام) کی موجودگی کے باعث ایسے اقدامات کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "مطالعے کی اہمیت کے بارے میں کم علمی اور پڑھنے کے رجحان میں کمی کے دور میں یہ مقابلہ لوگوں کو کتب بینی کی طرف راغب کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔" انہوں نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ "مقابلہ بازی بذاتِ خود انسان کے لیے اپنی صلاحیتوں اور استعداد کو نکھارنے کا محرک بنتی ہے، جبکہ مالی انعامات شرکت کے لیے ایک اضافی ترغیب ثابت ہوتے ہیں۔"

شیخ الکربلائی نے وضاحت کی کہ "کسی خاص مقصد کی طرف توجہ دلانے کے لیے محض نصیحت اور رہنمائی ہمیشہ کافی نہیں ہوتی، اس لیے دیگر طریقے بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں جن میں انعامی ترغیبات شامل ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ "ایسے مقابلوں کا انعقاد شرکاء کو مطالعے کی طرف راغب کرنے اور اس کی قدر و قیمت کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔"

انہوں نے نشاندہی کی کہ "مطالعے کی اصل اہمیت انسان کو مختلف معلومات و معارف سے روشناس کرانے اور شخصیت کی تعمیر و ترقی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل کی نعمت سے نوازا ہے اور عقل کا تعلق علم، مطالعے اور سیکھنے سے جڑا ہے۔"

انہوں نے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ابتدائی مراحل میں شرکاء کی محدود تعداد مستقبل کے سالوں میں اس کے تسلسل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے، بلکہ اس کو مزید بہتر بنانے، دائرہ کار وسیع کرنے اور مختلف موضوعات و کیٹیگریز شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد تک رسائی ممکن ہو سکے۔"

انہوں نے مزید فرمایا کہ "مطالعے کی طرف توجہ دراصل امرِ اہلِ بیت (علیہم السلام) کے احیاء کا بھی ایک مصداق ہے۔ ان کے فرامین زندگی کے تمام شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں، لہٰذا ان کا علم حاصل کرنا اور دوسروں کو سکھانا ان کے امر کے احیاء کا ہی ایک اہم پہلو ہے۔"

انہوں نے مستقبل کے مقابلوں کے حوالے سے کہا کہ "اس مقابلے میں مزید وسعت لاتے ہوئے ثقافت، اخلاقیات اور علومِ حدیث جیسے موضوعات شامل کیے جا سکتے ہیں، اور شرکاء کی علمی صلاحیتوں کا خیال رکھتے ہوئے شرکت کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔"

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "حرم مقدس حسینی کو اس میدان میں ایک مثالی نمونہ ہونا چاہیے، کیونکہ اس حرم کے وابستگان کی ایک خاص شناخت ہے جو ان کی زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں ہونی چاہیے"۔ آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ "آئندہ مقابلے مزید ترقی یافتہ ہوں گے اور یہ سلسلہ جاری و ساری رہتے ہوئے وسیع تر ہو گا تاکہ ملازمین کے درمیان کتب بینی، علم اور ثقافت کو فروغ دینے کے مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔"