اعلیٰ دینی مرجعیت کے نمائندے شیخ عبدالمہدی الکربلائی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ موجودہ دور میں جرائم کی دستاویز بندی وقت کے خلاف ایک دوڑ کی حیثیت رکھتی ہے، خصوصاً اس وقت جب جرائم اور واقعات کے آثار اب بھی موجود ہوں اور ان کی مدد سے حقائق کو واضح کیا جا سکتا ہو اور منحرف افکار و نظریات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات کو سامنے لایا جا سکتا ہو۔
انہوں نے یہ بات عراق میں القاعدہ اور داعش کی دہشت گردی کی دستاویز بندی پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا کی پہلی جلد وصول کرتے ہوئے کہی، جسے حرم مقدس حسینی نے 100 سے زائد علمی شخصیات کی شرکت سے تیار کیا ہے۔
شیخ عبدالمہدی الکربلائی نے کہا کہ اس کام کی اہمیت حقائق کو دستاویزی شکل دینے اور انہیں تحریف سے محفوظ رکھنے میں ہے، کیونکہ تاریخ کے بہت سے صفحات میں تبدیلی اور تحریف کی گئی ہے۔ اس لیے واقعات، شواہد اور ان کے آثار کو محفوظ کرنا آنے والی نسلوں تک حقیقت پہنچانے کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ دور میں جرائم کی دستاویز بندی وقت کے خلاف دوڑ ہے، بالخصوص جب جرائم اور واقعات کے آثار اب بھی نمایاں ہوں اور ان سے حقائق معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہو۔ حقیقی شواہد اور آثار کی دستاویز بندی ان منحرف افکار اور نظریات کی حقیقت کو واضح کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے، تاکہ ان کے بارے میں پیش کیے جانے والے ممکنہ گمراہ کن تصورات سے ہٹ کر اصل تصویر سامنے آسکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس انسائیکلوپیڈیا کے مقاصد میں قوم، مجاہدین، علما اور ان تمام افراد کے ساتھ انصاف کرنا بھی شامل ہے جنہوں نے عقیدے، وطن اور عوام کے تحفظ میں کردار ادا کیا، تاکہ حقیقی کردار ادا کرنے والوں کو تاریخ میں ان کا جائز مقام دیا جا سکے اور کامیابیوں کو غلط طور پر کسی دوسرے فرد یا ادارے سے منسوب نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ انسائیکلوپیڈیا میں القاعدہ اور داعش کی دہشت گرد تنظیموں کے جرائم اور فکری انحرافات کو دستاویزی شکل دینے کے ساتھ ساتھ عراقی عوام کے خلاف کیے جانے والے جرائم کی حقیقت بھی بیان کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں پیش آنے والے واقعات اور قربانیوں کو بھی محفوظ کیا گیا ہے، جن میں آمرلی کے واقعات بھی شامل ہیں، جبکہ مختلف سماجی طبقات کے خلاف ہونے والے جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی دستاویز کیا گیا ہے۔
شیخ الکربلائی نے کہا کہ آئندہ مرحلے میں ان حقائق کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے، خصوصاً علاقائی و بین الاقوامی اداروں، تنظیموں اور متعلقہ سرکاری اداروں تک۔ اس مقصد کے لیے انسائیکلوپیڈیا کے درست تراجم اور مناسب خلاصے تیار کرکے انہیں انسانی حقوق، دستاویز بندی اور ثقافت سے متعلق بین الاقوامی اداروں تک پہنچایا جانا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسائیکلوپیڈیا کے مواد کو معاشرے کے مختلف طبقات تک پہنچانے کے لیے متعدد ذرائع استعمال کیے جائیں، جن میں ادب، افسانہ، ناول، تھیٹر اور ڈرامائی تخلیقات شامل ہیں، تاکہ نئی نسلوں کو عراق میں پیش آنے والے واقعات اور دستاویزی طور پر ثابت شدہ جرائم سے آگاہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حرم مقدس حسینی سے وابستہ مرکز بینہ برائے فکری و ثقافتی سلامتی کی جانب سے انجام دیا گیا یہ کام قومی حافظے کو محفوظ رکھنے اور حقائق کو دستاویزی شکل دینے کے حوالے سے ایک اہم کاوش ہے۔ انہوں نے انسائیکلوپیڈیا کے تراجم اور اسے علاقائی و بین الاقوامی اداروں تک پہنچانے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے پر زور دیا۔
واضح رہے کہ عراق میں القاعدہ اور داعش کی دہشت گردی کی دستاویز بندی کا انسائیکلوپیڈیا پانچ سال سے زائد عرصے کی محنت کے بعد مکمل کیا گیا ہے۔ یہ 50 جلدوں پر مشتمل ہے، جنہیں پانچ بنیادی محوروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ حرم مقدس حسینی کے تابع مرکز بینہ برائے فکری و ثقافتی سلامتی کی جانب سے عراق میں دہشت گردی سے متعلق واقعات، جرائم اور ان کے آثار کو محفوظ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
