حرم مقدس حسینی کی سرپرستی میں۔۔ السیدہ زینب (ع) آئی سینٹر بچے کی بینائی کو مستقل ضائع ہونے سے بچانے میں کامیاب

حرم مقدس حسینی کی سرپرستی اور کربلا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے، "السیدہ زینب الکبریٰ (علیہا السلام) سینٹر" کے طبی عملے نے ایک ایسے بچے کا انتہائی پیچیدہ اور منفرد آپریشن کامیابی سے سرانجام دیا ہے جو 'پری میچیورٹی ریٹینوپیتھی' (Retinopathy of Prematurity - ROP) کے باعث مستقل نابینا پن کے شدید خطرے سے دوچار تھا۔

اسپیشلسٹ ڈاکٹر حمزہ صادق الشریفی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا: "حرم مقدس حسینی کی سرپرستی اور کربلا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے اشتراک سے، السیدہ زینب الکبریٰ (علیہا السلام) سینٹر کی میڈیکل ٹیم نے ایک معصوم بچے کی آنکھوں کا انتہائی جراحی اور جدید آپریشن کیا ہے، جو وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں میں پردۂ بصارت کی خرابی کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے بینائی کھو دینے کے دہانے پر تھا۔"

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ: "بچہ دونوں آنکھوں میں ریٹینل ڈیٹیچمنٹ کے مرض میں مبتلا تھا اور اس کی حالت آخری مراحل میں تھی۔ دائیں آنکھ چوتھے اسٹیج (4B) پر جبکہ بائیں آنکھ پانچویں اسٹیج تک پہنچ چکی تھی۔ ملک کے مختلف صوبوں میں متعدد ڈاکٹروں اور طبی مراکز کو دکھانے کے بعد اہلخانہ مکمل طور پر مایوس ہو چکے تھے، کیونکہ ہر جگہ انہیں یہی بتایا گیا تھا کہ بچہ مستقل طور پر اندھے پن کا شکار ہو چکا ہے۔"

انہوں نے مزید بتایا: "طبی عملے نے سینٹر پہنچتے ہی فوراً کیس کی تشخیص کی اور ہنگامی بنیادوں پر جراحی کا فیصلہ کیا۔ دونوں آنکھوں کے ضروری آپریشن مختلف مراحل میں کیے گئے۔ پہلے مرحلے میں ایک آنکھ کا علاج کیا گیا اور معمولی خون بہنے کی وجہ سے اس کی واشنگ کی گئی، جس کے بعد دوسری آنکھ کا آپریشن بھی کامیابی سے مکمل کر لیا گیا۔ آپریشن کے دو ہفتے بعد کیے جانے والے طبی معائنوں اور ایکسرے/اسکینز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جراحی اور فنکشنل دونوں لحاظ سے

100 فیصد (100%) شاندار کامیابی

حاصل ہوئی ہے، اور اب بچے نے اپنے گھر والوں کی طرف دیکھنا اور بصری ردعمل دینا شروع کر دیا ہے۔"

ڈاکٹر حمزہ نے اشارہ کیا کہ: "آج ہمارا سینٹر عراق کے اندر ایسے پیچیدہ اور نایاب آپریشن کرنے کی صلاحیت پر فخر محسوس کرتا ہے۔ اس سے قبل وزارتِ صحت کا طریقہ کار یہ تھا کہ ایسے مریضوں کو علاج کے لیے بیرونِ ملک بھیجا جاتا تھا یا غیر ملکی ٹیمیں بلائی جاتی تھیں۔ اس جیسے ایڈوانسڈ کیسز میں کامیابی کی عالمی شرح 20 فیصد (20%) سے زیادہ نہیں ہے، لیکن اللہ کے فضل و کرم سے ہم نے اس کیس میں مکمل کامیابی حاصل کی ہے، جو ہمارے سینٹر میں اپنی نوعیت کا تیسرا کامیاب آپریشن ہے۔"

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ: "یہ بڑی کامیابی حرم مقدس حسینی اور سینٹر کی انتظامیہ کی جانب سے جدید ترین طبی آلات کی فراہمی اور مسلسل و لامحدود سپورٹ کے بغیر ممکن نہیں تھی۔" اس کے ساتھ ہی انہوں نے نرسنگ اسٹاف، اسسٹنٹس اور اینستھیزیا (بے ہوشی) کی ٹیم کی غیر معمولی کوششوں کو بھی سراہا جنہوں نے اس کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ آپریشن عراق کے طبی شعبے میں آنے والی ایک بڑی اور معیاری تبدیلی کی تصدیق کرتا ہے، جس کی بدولت اب شہریوں کے سر سے بیرونِ ملک سفر کی زحمت اور بھاری اخراجات کا بوجھ ختم ہو رہا ہے۔

: Toseef Raza Khan