حرم مقدس حسینی سے وابستہ وارث اکیڈمی برائے پائیدار ترقی و اسٹریٹجک اسٹڈیز نے اسکولوں میں شجرکاری کی مہم **"عراقنا أخضر باسمك يا حسين"** (ہمارا عراق تیرے نام سے سرسبز ہے اے حسینؑ) کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اکیڈمی کے مطابق اس مہم کے تحت اب تک صوبہ کربلا کے مختلف اضلاع اور نواحی علاقوں کے 50 اسکولوں میں پودے لگائے جا چکے ہیں۔
اکیڈمی کے ڈائریکٹر، جناب حسن الشریفی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ: "حرم مقدس حسینی کی وارث اکیڈمی اسکولوں کو سرسبز بنانے کی اس مہم کو تندہی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ منصوبے کا پہلا مرحلہ تعلیمی سال کے اختتام اور موجودہ شجرکاری کے سیزن کے ساتھ ہی مکمل ہونے والا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ اگلے مرحلے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں تاکہ بقیہ اسکولوں کی بڑی تعداد کو بھی اس میں شامل کیا جا سکے۔
شریفی صاحب نے واضح کیا کہ یہ مہم نئی نسل میں ماحولیاتی شعور بیدار کرنے اور تعلیمی اداروں میں فطرت سے لگاؤ کی ثقافت کو راسخ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس منصوبے کے تحت اسکولوں کو زیتون کے درخت فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ صوبے کے مختلف حصوں میں سبزے کو فروغ دیا جا سکے۔
اسی حوالے سے نظامت تعلیم کربلا کے سپروائزر جناب علی الدفاعی نے کہا: "حرم مقدس حسینی کی جانب سے شروع کی گئی یہ مہم صرف درخت لگانے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد طلبہ میں ماحولیاتی اہمیت کو اجاگر کرنا اور انہیں یہ سکھانا ہے کہ درخت زندگی کی پائیداری کا لازمی حصہ ہیں۔" انہوں نے حرم مقدس حسینی کی ان کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ معاشرتی خدمات اور طلبہ میں ماحولیاتی کلچر کو فروغ دینے والے منفرد اقدامات میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔
واضح رہے کہ وارث اکیڈمی صوبے کے اسکولوں میں زیتون کے درخت لگانے کا یہ منصوبہ ایک جامع پلان کے تحت جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا مقصد اسکولوں کے ماحول کو پائیدار بنانا اور معاشرے میں ماحولیاتی تحفظ کا شعور پھیلانا ہے۔
