یومِ عرفہ (9 ذوالحجہ) اسلامی سال کے مبارک ترین دنوں میں سے ایک ہے۔ اس دن کی فضیلت اور برکتوں سے فیضیاب ہونے کے لیے کتبِ احادیث اور ادعیہ (جیسے مفاتیح الجنان) میں متعدد اعمال ذکر کیے گئے ہیں۔
اس دن کے اہم ترین اعمال درج ذیل ہیں:
۱. غسل اور روزه
غسل: روزِ عرفہ زوال (ظہر) سے پہلے غسل کرنا مستحب ہے۔روزہ: اس دن کا روزہ رکھنا عظیم ثواب کا باعث ہے، بشرطیکہ روزہ رکھنے سے دعا اور اعمال بجا لانے میں کمزوری یا سستی واقع نہ ہو۔۲. زیارتِ امام حسین علیہ السلام
اس دن کی افضل ترین عبادات میں سے ایک زیارتِ امام حسین علیہ السلام ہے۔ اگر کربلا میں موجود ہوں تو حرمِ مطہر میں حاضری، ورنہ دور سے بھی زیارتِ عرفہ پڑھنے کی بے پناہ فضیلت ہے۔ روایات کے مطابق اس دن اللہ تعالیٰ سب سے پہلے زائرینِ امام حسین علیہ السلام پر نظرِ رحمت فرماتا ہے۔۳. نمازیں اور مخصوص نوافل
نمازِ عصر کے بعد: کھلے آسمان کے نیچے (اگر ممکن ہو) دو رکعت نماز بجا لائیں، جس کی پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ توحید (قل ھو اللہ) اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ کافرون پڑھیں۔ نماز کے بعد اپنے گناہوں کا اعتراف اور توبہ کریں۔امیر المومنین علیہ السلام کی نماز: چار رکعت نماز (دو دو رکعت کر کے)۔ ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد 50 مرتبہ سورہ توحید پڑھیں۔۴. دعائیں اور مناجات
یومِ عرفہ بنیادی طور پر دعا اور استغفار کا دن ہے۔ اس دن درج ذیل دعائیں پڑھنا انتہائی مجرب ہے:
دعائے عرفہ (امام حسین علیہ السلام): یہ اس دن کی معروف ترین اور روح پرور دعا ہے، جو معرفتِ الٰہی، شکر گزاری اور عاجزی کا بے نظیر نمونہ ہے۔ اسے عصر کے وقت کھلے آسمان کے نیچے پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے۔دعائے عرفہ (امام زین العابدین علیہ السلام): صحیفہ سجادیہ کی دعا نمبر 43، جو نہایت فصیح اور مفاہیم سے بلند ہے۔استغفار اور تسبیحاتِ رسول اللہ (ص): اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرنا اور کثرت سے استغفار کرنا۔۵. صدقہ اور خیرات
اس مبارک دن مستحقین کی مدد کرنا، صدقہ دینا اور دوسروں کے لیے خیر و برکت کی دعا کرنا اعمال کی قبولیت کا سبب بنتا ہے۔ایک اہم نکته: اس دن اپنے لیے، اپنے اہل و عیال، اور تمام مومنین و مومنات کے لیے مغفرت اور حجتِ خدا کے ظہور کی دعا میں خاص اہتمام کریں۔
