10,000 سیکیورٹی و تنظیمی اہلکار اور 2,400 کیمرے: یومِ عاشور کی تیاریوں کے سلسلے میں حرم مقدس حسینی کو ہائی الرٹ کرنے کا اعلان

حرم مقدس حسینی کے حفظِ نظام (سیکیورٹی) ڈیپرٹمنٹ نے مرجعِ اعلٰی کے نمائندے شیخ عبدالمہدی کربلائی اور حرم مقدس حسینی کے سکرٹری جنرل جناب حسن رشید عبایچی کی براہِ راست نگرانی میں، دسویں محرم الحرام کے مراسمِ زیارت اور عزائے ركضہ طويريج (طویریج دوڑ) کو منظم اور محفوظ بنانے کے لیے فیلڈ پلان کی تیاریاں مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حفظِ نظام ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ انجینئر رسول فضالہ نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "ڈیپارٹمنٹ نے دسویں محرم کے مراسم کے دوران امام حسین علیہ السلام کے روضہ مبارک پر آنے والے زائرین اور عزاداروں کی آمد و رفت کو سنبھالنے کے لیے ایک جامع تنظیمی اور سیکیورٹی پلان تیار کیا ہے، تاکہ زائرین کی حفاظت اور نقل و حرکت کی روانی کو یقینی بنایا جا سکے"۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "اس پلان کے تحت 10,000 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں حرم مقدس حسینی کے اپنے عملے کے 2,000 ملازمین اور 8,000 رضاکار شامل ہیں۔ یہ اہلکار صحنِ حسینی کی طرف جانے والے تمام راستوں اور گزرگاہوں پر زائرین کی آمد و رفت کو منظم کرنے اور لاکھوں کے ہجوم کو سنبھالنے کے لیے تقسیم ہوں گے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اس پلان میں حرم مقدس حسینی کے اطراف اور اس کی طرف آنے والی سڑکوں پر 2,400 سے زائد جدید ترین مانیٹرنگ (سی سی ٹی وی) کیمروں کا آپریشن بھی شامل ہے۔ یہ کیمرے سیکیورٹی کو یقینی بنانے، ہجوم کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کرنے اور زائرین کے رش کے دباؤ کا تجزیہ کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے، جس سے فیلڈ میں فوری فیصلے کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹنے میں آسانی ہوگی"۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "حفظِ نظام ڈیپارٹمنٹ، دیگر معاون شعبوں، سیکیورٹی اداروں اور خدماتی اداروں کے ساتھ مل کر ایک مربوط اور متفقہ پلان کے تحت کام کر رہا ہے، جس کا مقصد نظم و ضبط اور سیکیورٹی کو اعلیٰ ترین سطح پر فراہم کرنا ہے، جو کہ امام حسین علیہ السلام کے یومِ شہادت پر کربلائے معلیٰ میں آنے والے لاکھوں زائرین کے شایانِ شان ہو"۔

آخر میں انہوں نے اشارہ کیا کہ "ڈیپارٹمنٹ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جہاں تمام عملے اور گاڑیوں کو چوبیس گھنٹے مکمل مستعد رہنے کے احکامات ہیں تاکہ فیلڈ پلان کو اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ نافذ کیا جا سکے اور کسی بھی قسم کی تبدیلی کی صورت میں فوری کارروائی کرتے ہوئے عزاداروں کو بہترین سیکیورٹی، روانی اور خدمات فراہم کی جا سکیں"۔

منسلکات