کربلا میں خطیبِ نمازِ عید کا بیان: عراقی عوام صبر و یکجہتی کا ایک عظیم مدرسہ اور مصائب کے خلاف فخر کا نشان ہیں

کربلاء معلیٰ میں بین الحرمین الشریفین کے علاقے میں ادا کی گئی عید الاضحیٰ کی نماز کے خطیب نے اپنے خطبے کے دوران امتِ مسلمہ کو درپیش شدید مصائب اور بحرانوں کا ذکر کرتے ہوئے کئی اہم پیغامات دیے۔ انہوں نے خاص طور پر مظلوموں کی گمشدگی، پیاروں کے بچھڑنے، شہداء کے جسدِ خاکی کی تلاش اور تدفین میں درپیش مشکلات کے ساتھ ساتھ نقل مکانی (ہجرت) کی سختیوں اور آزمائشوں کا تذکرہ کیا۔

خطبہ عید دیتے ہوئے شیخ صلاح الکربلائی نے کہا: "ان مبارک ایام میں جن اہم ترین پہلوؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہے، ان میں سے ایک اس غیور، بہادر اور شریف قوم کے وہ مواقف ہیں جو ان کی اصل، پاکیزہ شناخت اور وفاداری کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے نجف اشرف میں موجود مرجعیتِ عالیہ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مسلسل مادی اور معنوی مدد فراہم کر کے ایک قابلِ فخر مثال قائم کی ہے۔"

انہوں نے مزید واضح کیا کہ: "یہ مخلصانہ مواقف اور قربانیاں آج بھی عالمی سطح پر فخر اور اعزاز کا باعث ہیں، جو ایثار، باہمی یکجہتی اور صبر کے جذبے کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس غیور قوم نے آزمائش کے برسوں میں ثابت کیا ہے کہ وہ عملی اسباق اور عبرتوں سے بھرپور ایک ایسا مدرسہ ہے جس سے اصلاح، تعمیرِ وطن اور عوامی خدمات کے راستوں میں فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔"

انہوں نے محروم طبقات اور نوجوانوں کے بوجھ کو ہلکا کرنے کی پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "یہ قوم ہر طرح کی قربانی، مسلسل دیکھ بھال اور خدمت کی مستحق ہے، اس لیے عوامی خدمت اور تعاون کی کوششوں کو مسلسل جاری رکھنا ناگزیر ہے۔"

شیخ صلاح الکربلائی نے انسانی زندگی کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا: "یہ دنیا ایک گزرگاہ ہے، مستقل ٹھکانا نہیں؛ یہ فنا اور زوال کا گھر ہے جو اپنے بسنے والوں کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ بدلتا رہتا ہے۔ پس دھوکے میں ہے وہ شخص جسے اس دنیا نے فریب دیا، اور بدبخت ہے وہ جو اس کے فتنے میں مبتلا ہو گیا۔ انسان کو اپنے ہر عمل اور سفر میں اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔"

انہوں نے اس مقدس اور بابرکت مقام سے بارگاہِ الٰہی میں ان الفاظ کے ساتھ خطبے کا اختتام کیا:

"اللہ تعالیٰ تمام امتِ مسلمہ کو ہدایت اور صلاحِ فلاح سے نوازے، حق کی راہ پر گامزن رکھے جس سے کبھی قدم نہ ڈگمگائیں، اور ایسی نیک نیت عطا فرمائے جو ہر شک و شبہے سے پاک ہو۔ باری تعالیٰ سب کا ہاتھ تھام کر ان کاموں کی توفیق دے جو اسے پسند ہیں، سب کو سیدھے اور مضبوط راستے پر چلائے اور اپنی رضا کے کاموں میں مصروف رکھے۔ پروردگار سب کو بہترین راستے پر گامزن فرمائے اور اسی دینِ مبین پر جینا اور مرنا نصیب فرمائے۔"