مظاہرین اور حکومتی رد عمل پر شدید افسوس کا اظہار

26 ذی الحجہ 1439 ھ بمطابق 07/09/2018ء کو نماز جمعہ صحن حرم مطہر حضرت امام حسین علیہ السلام میں حرم مقدس حسینی کے متولی علامہ شیخ عبدالمہدی کربلائی کی کی امامت میں اداکی گئی ۔ علامہ کربلائی نے ملکی سطح پر جاری حالیہ مظاہرات اور حکومتی ردعمل پر شدید افسوس اور فکر کا اظہار کیا اور کہا کہ جہاں حالات پہنچ چکے ہیں اس کے بارے میں اعلیٰ دینی قیادت کی طرف سے کئی بار متوجہ کیا گیا لیکن افسوس کہ کسی نے ان کی تنبیہات پر توجہ نہ دی۔ آج بھی ان حالات کی بہتری کے لئے بعض امور پر روشنی ڈالتے ہیں

امر اول:

نہتے اور پُرامن مظاہرین پر تشدد اور خاص طور پر گولی چلانے کی ہم پُرزور مذمت کرتے ہیں کہ جس کے نتیجے میں بہت سے مظاہرین جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ اسی طرح ہم حکومتی عمارتوں اور اداروں کی حفاظت پر مامور سیکورٹی فورسز کو پتھر مارنے اور ان پر پٹرول بم پھینکنے کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ اسی طرح سے ہم عمومی اور خصوصی املاک کو آگ لگانے، توڑ پھوڑ کرنے اور لوٹنے وغیرہ کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ اس قسم کے تمام کام شرعًا اور قانونًا جائز نہیں ہے اور ان کی وجہ سے ایک نیا بحران پیدا ہو سکتا ہے اور شہریوں کی موجودہ مشکلات کو حل کرنے میں مزید پچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا ہم تمام لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس قسم کے کاموں سے پرہیز کریں اور کسی بھی قسم کے تشدد کا استعمال نہ کریں خاص طور پر مظاہروں کو روکنے کے لیے تشدد کا استعمال نہ کیا جائے اور اسی طرح سے مظاہرین بھی عمومی اور خصوصی املاک کو نشانہ نہ بنائیں۔ امردوم:

 عراق کی مظلوم عوام نے بعثی و صدامی حکومت کے خاتمے کے بعد دہشت گردی اور اس کے نتیجے میں جانوں کے ضیاع، خواتین کے بیوہ ہونے اور بچوں کے یتیم ہونے پہ طویل عرصہ صبر کیا اور اس کے بعد پھر عراق اور اس کے مقدسات کا دفاع کرتے ہوئے اپنے عظیم بیٹوں کو قربانی کے لیے پیش کیا اور داعشی دہشت گردوں کا طویل عرصے تک مقابلہ کیا، مسلسل 15 سال تک عراقی عوام کی بڑی تعداد نے اس امید پر محرومی اور اذیت کا سامنا کیا کہ نیا آنے والا نظام اور حکومت ایسا ماحول پیدا کرے گی کہ جس میں باعزت اور اطمینان بخش پُرسکون زندگی میسر ہو گی۔ یہ صابر عوام جو کچھ دیکھ رہی ہے اس پر مزید صبر نہیں کر سکتی ذمہ داران بحران کو حل کرنے کی بجائے آپس میں ہی سیاسی مفادات، مناصب اور حکومتی عہدوں پہ لڑ رہے ہیں، انہوں نے اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کے لیے غیر ملکیوں کو ملکی امور میں مداخلت کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، اردگرد رہنے والے ممالک اور عالمی طاقتوں کے مفادات اور ایجنڈوں کے لیے اس ملک کو پُر کشش میدان جنگ بنا دیا ہے۔ امرسوئم:

بصرہ اور دوسرے علاقوں میں رہنے والے شہری بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی، غربت کے پھیلاؤ اور بڑھتی ہوئی بیروزگاری کا شکار ہیں، مختلف حکومتی اداروں میں کرپشن عروج پر ہے اور ان سب کی بحرانوں کی وجہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں میں موجود حساس مناصب پر بیٹھے ہوئے بڑے عہدیداروں کا اپنی ذمہ داریوں کو انجام نہ دینا ہے، ان حکومتوں کی بنیاد سیاسی بندر بانٹ اور عہدوں کی تقسیم میں با صلاحیت اور ماہر افراد کا انتخاب نہ کرنا ہے ۔ اگر آنے والی حکومت بھی گزشتہ حکومتوں کے طریقہ کار پر تشکیل پائی تو اس المناک و افسوسناک صورت حال کا تبدیل ہونا ناممکن ہے لہٰذا ضروری ہے کہ نئی حکومت گزشتہ حکومتوں سے مختلف ہو اورباصلاحیت، ایماندار، بہادر، باعزم اور ملک و عوام کے لیے مخلص افراد کو عہدے دے۔  امر چہارم:

اعلی دینی قیادت کے خصوصی نمائندے نے اپنی تحقیق و تفتیش کے ذریعے بصرہ میں پانی کے بحران کے حوالے سے حکومت کی شدید کوتاہی کا انکشاف کیا ہے اور اس دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومتی وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے انتہائی معمولی پیسوں اور تھوڑی سی محنت کے ذریعے اس بحران کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا تھا لیکن بعض عہدوں پر بیٹھے ہوئے افراد میں قابلیت کے نہ ہونے، بعض دیگر کی طرف سے مسئلے میں دلچسپی نہ لینے، اداروں کی سستی، متعلقہ محکموں کے ایک دوسرے سے عدم تعاون اور اسی طرح کے دوسرے معاملات نے مشکلات کو بڑھایا اور بحران اس بد ترین صورتِ حال تک آ پہنچا۔ تنفیذی عہدوں پر بیٹھے ہوئے افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ عوامی منصوبوں اور خاص طور پر ملک کے بنیادی ڈھانچہ سے متعلق منصوبوں کی مسلسل نگرانی کریں اور ماہرین کے مشورے کے مطابق شجاعانہ اور فوری اقدامات کریں منصوبوں کو پایہ تکمیل سے روکنے والے تمام امور کو ترک کریں تاکہ چھے ماہ میں پایہ تکمیل کو پہنچنے والا منصوبہ کئی سالوں تک متاخر نہ رہے ۔ امر پنجم:

جن مشکلات کو حل کرنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہے یا جن میں کچھ رکاوٹیں موجود ہیں ان کے سلسلہ میں حکومتی عہدیداروں کو اپنی واضح دلچسپی و سنجیدگی کا اظہار کرنا ہو گا اور اس کے لیے ضروری اقدامات کرنے ہوں گے تا کہ عوام کو مشکلات کے ختم کرنے کا حقیقی ارادہ نظر آئے اور ان میں اعتماد اور اطمینان پیدا ہو سکے یہ چیز لوگوں کے اطمینان کا باعث بنتی ہے اور ان کی پریشانیوں کو کم کرتی ہے اس سلسلہ میں حکومتی وزیروں اور دیگر عہدیداروں کو ذاتی طور پر منصوبوں پہ کام کی جگہ وقتا فوقتا آنا ہو گا اور معاملات کا خود جائزہ لینا ہو گا اور لوگوں کے مطالبات کو سننے اور ہر ممکن طریقے سے انہیں پورا کرنے کی عادت ڈالنی ہو گی۔

منسلکات