زیارتِ اربعین کے بارے میں ہدایات

۱۔ جن مؤمنین کو اللہ تعالیٰ نے اس عظیم زیارت کی توفیق بخشی ہے، انہیں اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے انبیاء اور اوصیاء کو اس لیے بنایا تاکہ وہ لوگوں کے لیے نمونہ عمل اور حجت بنیں، اور لوگ ان کی تعلیمات سے ہدایت پائیں اور ان کے افعال کی پیروی کریں۔

۲۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں امام حسین (علیہ السلام) کی قربانیوں کو یاد کرنا۔

۳۔ یہ (زیارت) دینِ حنیف کی تعلیمات پر عمل کرنے کا اہتمام ہے، جیسے نماز، حجاب، اصلاح، عفو و درگزر، حلم و بردباری، ادب، راستے کے حقوق اور دیگر تمام اعلیٰ اقدار کا خیال رکھنا، تاکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ زیارت نفس کی ان معانی پر تربیت کی راہ میں ایک قدم ثابت ہو۔

۴۔ پس نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈریں، کیونکہ جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے، یہ دین کا ستون اور مؤمنین کی معراج ہے۔ اگر یہ قبول ہو گئی تو اس کے علاوہ باقی سب بھی قبول ہو جائے گا، اور اگر یہ رد کر دی گئی تو باقی سب بھی رد کر دیا جائے گا۔ اسے اول وقت میں ادا کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے سب سے محبوب بندے وہ ہیں جو اس کی پکار پر سب سے جلدی لبیک کہتے ہیں۔ مؤمن کو چاہیے کہ وہ اول وقت میں نماز کو چھوڑ کر کسی دوسری عبادت میں مشغول نہ ہو، کیونکہ یہ تمام عبادات میں افضل ہے۔

۵۔ اخلاص کے معاملے میں اللہ سے ڈریں، کیونکہ انسان کے عمل کی قدر و قیمت اور اس کی برکت اس کے اخلاص کے بقدر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ صرف اسی عمل کو قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو اور اس میں غیر کی طلب نہ ہو۔

۶۔ لہذا زائرین پر لازم ہے کہ وہ اپنے سفر کے دوران کثرت سے اللہ کا ذکر کریں اور اپنے ہر قدم اور ہر عمل میں اخلاص کو یقینی بنائیں۔

۷۔ پردے اور حجاب کے معاملے میں اللہ سے ڈریں، کیونکہ یہ ان اہم ترین چیزوں میں سے ہے جن کا اہل بیت (علیہم السلام) نے شدید ترین حالات میں بھی، حتیٰ کہ کربلا کے دن بھی، خاص اہتمام فرمایا اور اس میں بہترین مثال قائم کی۔

پس تمام زائرین، خصوصاً مؤمن خواتین پر لازم ہے کہ وہ اپنے رویے، لباس اور ظاہری حلیے میں عفت و پاکدامنی کے تقاضوں کا خیال رکھیں اور ہر اس چیز سے پرہیز کریں جو اس کو مجروح کرے، جیسے تنگ لباس، ناپسندیدہ اختلاط، اور منع کی گئی زینت۔ بلکہ اس مقدس شعیرہ کو ہر قسم کی نازیبا آلائشوں سے پاک رکھنے کے لیے ہر ممکن حد تک اعلیٰ ترین درجات کا خیال رکھنا چاہیے۔