حرم مقدس حسینی کے ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن اتھارٹی نے کربلا میں واقع امام المجتبیٰ (علیہ السلام) اسپتال برائے امراضِ خون و بون میرو ٹرانسپلانٹ کے تحت، بچوں میں "ایلوجینک بون میرو ٹرانسپلانٹ" ( غیر متعلقہ عطیہ دہندہ سے بون میرو کی پیوند کاری) کا دسواں منفرد اور نوعیت کا پہلا کامیاب آپریشن کرنے کا اعلان کیا ہے، جو کہ ایک جدید اور مربوط علاج کے پروگرام کا حصہ ہے۔
اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر حیدر حمزہ العابدی نے بتایا کہ: "حرم مقدس حسینی کی ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن اتھارٹی نے کربلا کے امام المجتبیٰ (علیہ السلام) اسپتال برائے امراضِ خون و بون میرو ٹرانسپلانٹ میں ایک جدید اور مربوط طبی پروگرام کے تحت، بچوں کے لیے اپنی نوعیت کا دسواں کامیاب ایلوجینک بون میرو ٹرانسپلانٹ آپریشن مکمل کر لیا ہے۔"
انہوں نے وضاحت کی کہ: "یہ آپریشن انتہائی حساس اور پیچیدہ سرجریز میں شمار ہوتا ہے، جس کے لیے جدید طبی وسائل، اعلیٰ ترین مہارتوں اور مسلسل طبی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ: "اس آپریشن سے قبل، بیشتر بچوں کو تقریباً ایک سال تک پرمغز اور انتہائی سخت علاج کے مراحل سے گزرنا پڑا، جس پر فی بچہ 100 ملین عراقی دینار سے زائد کے اخراجات آئے۔ اس کے علاوہ خود بون میرو ٹرانسپلانٹ آپریشن کی لاگت 50 ملین عراقی دینار سے زیادہ ہے، جبکہ آپریشن کے بعد بھی کئی سالوں تک طبی فالو اپ اور دوری معائنہ (چیک اپ) کا سلسلہ جاری رہے گا۔"
ڈاکٹر العابدی نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ: "یہ تمام کوششیں ان بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے کی جا رہی ہیں جن کے پاس بون میرو ٹرانسپلانٹ کے بغیر شفایابی کا کوئی حقیقی موقع موجود نہیں تھا۔" انہوں نے تاکید کی کہ: "حرم مقدس حسینی بیمار بچوں اور ان کے اہل خانہ کی مدد کے لیے یہ تمام آپریشنز مکمل طور پر اپنے ذاتی خرچ پر مفت فراہم کر رہا ہے۔"
انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ: "علاج کا یہ پروگرام صرف آپریشن تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں تشخیص، ابتدائی و تمہیدی علاج، اور ٹرانسپلانٹ کے بعد ماہر طبی اور نرسنگ ٹیموں کی نگرانی میں دنیا کے جدید ترین منظور شدہ طبی پروٹوکولز کے مطابق باریک بینی سے کیا جانے والا فالو اپ بھی شامل ہے۔"
یہ منفرد آپریشنز حرم مقدس حسینی کے زیرِ انتظام چلنے والے طبی اداروں کی اس وسیع تر ترقی کا حصہ ہیں جو امراضِ خون اور بون میرو ٹرانسپلانٹ کے شعبے میں، بالخصوص خطرناک اور پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا بچوں کے لیے کی جا رہی ہے۔ ان اداروں میں جدید ترین علاج کی ٹیکنالوجیز فراہم کرکے اور ماہر طبی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر کوشش کی جا رہی ہے کہ عراقی شہریوں کو علاج کے لیے بیرونِ ملک سفر کرنے کی زحمت اور بھاری مالی بوجھ سے نجات دلائی جا سکے۔
