پرامن بقائے باہمی کے فروغ اور نفرت انگیزی کے خاتمے کے لیے: حرم مقدس حسینی کا موصل، الحمدانیہ اور تلعفر یونیورسٹیوں کے ساتھ فکری و تعلیمی شراکت داری بڑھانے کا عزم

حرم مقدس حسینی نے شعبہ دینی امور سے وابستہ موصل میں قائم "شعبہ فکری و ثقافتی سرگرمیاں" کے ذریعے موصل، الحمدانیہ اور تلعفر یونیورسٹیوں کے ساتھ فکری، ثقافتی اور تعلیمی شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اس تعاون کا مقصد گمراہ کن یا توہین آمیز مواد کا مقابلہ کرنا اور یونیورسٹیوں کے اندر سماجی شعور کو بیدار کرنا ہے۔

اس شعبے کے سربراہ شیخ خلیل العلیاوی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ: "حرم مقدس حسینی کے شعبہ دینی امور سے وابستہ موصل میں فکری و ثقافتی سرگرمیوں کے شعبے کے ایک وفد نے موصل، الحمدانیہ اور تلعفر یونیورسٹیوں کی انتظامیہ سے ملاقاتوں کا ایک سلسلہ منعقد کیا ہے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد باہمی تعاون کو مضبوط بنانا اور ایسے فکری و ثقافتی پروگراموں کو فعال کرنا ہے جو اعتدال پسند بیانیے کو فروغ دینے اور نفرت انگیزی کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ: "موصل اور الحمدانیہ یونیورسٹیوں کی انتظامیہ کے ساتھ ہونے والے اجلاسوں میں اس مشترکہ کمیٹی کے لیے تعلیمی نمائندوں کے نامزدگی کے طریقہ کار پر بات چیت کی گئی، جو عراق میں مذاہب اور مسالک کی توہین کرنے والے مواد کی نگرانی اور روک تھام کرے گی۔ اس کمیٹی کے باقاعدہ قیام کی منظوری حرم مقدس حسینی کی جانب سے دی جا چکی ہے۔"

انہوں نے وضاحت کی کہ: "اس کمیٹی میں سرکاری، تعلیمی، سماجی اور قبائلی شخصیات شامل ہوں گی۔ کمیٹی ڈیجیٹل اور میڈیا پر موجود توہین آمیز مواد کی نگرانی کرے گی اور ایک پختہ فکری و ثقافتی مواد تیار کر کے اس کا جواب دے گی، جو اتحادِ بین المسلمین اور یکجہتی کو فروغ دینے میں معاون ہو۔ اس کے علاوہ مشترکہ سیمینارز اور خصوصی ورکشاپس بھی منعقد کی جائیں گی۔"

شیخ علیاوی نے اشارہ کیا کہ: "یہ اقدام آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی کی ہدایات کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے، جو پرامن بقائے باہمی، بیانیے کی یکجہتی، اور ہر قسم کی نفرت اور تفریق کو مسترد کرنے پر زور دیتے ہیں۔" انہوں نے مطلع کیا کہ یونیورسٹیوں کی انتظامیہ نے کمیٹی کے دائرہ کار میں سائنسی اور فکری پہلوؤں کو فعال کرنے اور مکمل تعاون فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

اسی تناظر میں انہوں نے بتایا کہ: "حرم مقدس حسینی کی نمائندگی کرتے ہوئے ہمارے شعبے نے تلعفر یونیورسٹی کو ایک مشترکہ تعلیمی و ثقافتی تعاون کا خط (لیٹر) تسلیم کیا ہے، جس کا مقصد تعلیمی سفر کو سپورٹ کرنا اور طلبہ کی فکری و ثقافتی سرگرمیوں کو بڑھانا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ: "وفد نے تلعفر یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر عقیل الاعرجی سے ملاقات کی، جہاں دونوں فریقین کے مابین مشترکہ پروگراموں اور سرگرمیوں کے انعقاد پر بات چیت ہوئی تاکہ یونیورسٹی کے ماحول میں ثقافتی اور فکری شعور کو پروان چڑھایا جا سکے۔"

حرم مقدس حسینی علمی اور ثقافتی اداروں کے ساتھ اپنے تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے، تاکہ پرامن بقائے باہمی اور سماجی امن کی اقدار کو راسخ کیا جا سکے، اور عراقی معاشرے کے تمام طبقات کے مابین اعتدال پسندی اور مکالمے کے بیانیے کو مضبوط بنایا جا سکے۔

منسلکات