اعلیٰ مذہبی مرجعیت کے نمائندے، شیخ عبدالمہدی الکربلائي نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قرآنی مقابلے اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنانے کا ایک اہم ذریعہ (محور) ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے حرم مقدس حسینی کے زیر اہتمام جاری 'بین الاقوامی قرآنی ہفتے' میں شریک وفود کا استقبال کرتے ہوئے کیا۔
اعلیٰ مرجعیت کے نمائندے نے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا: "قرآنی مقابلے اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قرآن کریم کی قرأت، تجوید، ترتیل اور حفظ پر توجہ دینا ایک پسندیدہ اور اہم امر ہے، تاہم اصل اور اعلیٰ ترین مقصد قرآن کریم کو سمجھنا، اس کے مضامین پر عمل کرنا اور اس کی تعلیمات کو زندگی کے طریقہ کار میں تبدیل کرنا ہے۔"
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: "قرآن کریم انسان کے لیے کتابِ ہدایت ہے، اور جن اہم ترین موضوعات پر یہ کتاب توجہ مرکوز کرتی ہے، ان میں سے ایک زندگی میں مقصدیت کے اصول کو راسخ کرنا ہے"۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ "انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اہداف کا تعین کرے اور قرآنی اقدار و اصولوں پر مبنی ایک واضح طریقہ کار کے مطابق زندگی کے سفر پر گامزن ہو۔"
انہوں نے مزید فرمایا: "خوبصورت قرآنی آوازیں اور بہترین قرأت دلوں کو اللہ کی کتاب کی طرف راغب کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں، لیکن سب سے اہم چیز روح کا تزکیہ، دلوں کی سلامتی اور قرآنی مفاہیم کو عملی سلوک وکردار میں ڈھالنا ہے۔ قرآن کا مقصد صرف تلاوت کرنا نہیں بلکہ ایک صالح انسان اور باشعور معاشرے کی تعمیر کرنا ہے۔"
انہوں نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ "مستقبل میں قرآنی مقابلوں کے دائرہ کار کو وسعت دی جانی چاہیے تاکہ اس میں آیاتِ قرآنی کی تفسیر، تدبر، فہم اور عملی اطلاق کے شعبے بھی شامل ہوں"۔ انہوں نے اس بات کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی کہ "شرکاء کی رہنمائی اس انداز میں کی جائے کہ وہ قرآن کریم کے معانی کو جذب کریں اور انہیں اپنی روزمرہ کی زندگی کے حقائق میں مجسم کریں۔"
انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے فرمایا: "مختلف اسلامی ممالک کے قراء اور حفاظ کا حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ مبارک کے سائے تلے جمع ہونا، اسلامی اخوت اور اتحاد کے رشتوں کو مضبوط کرنے کا ایک اہم پیغام ہے"۔ انہوں نے اسلامی ممالک کے درمیان قرآنی تعاون اور تبادلوں کو فروغ دینے کی دعوت دی تاکہ مشترکہ قرآنی اقدار کے گرد دلوں اور روحوں کو متحد کرنے میں مدد مل سکے۔
انہوں نے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ "قرآنی صلاحیتوں پر توجہ دینا، ان کی سرپرستی کرنا اور انہیں مسلسل نکھارنا ایک باشعور قرآنی نسل کی تعمیر کے بنیادی ستونوں میں سے ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان حفاظ اور قراء کی پشت پناہی کرنا بھی انتہائی ضروری ہے جنہوں نے قرآن کریم کو سیکھنے اور حفظ کرنے کی راہ میں کٹھن حالات اور بڑے چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔"
