حرم مقدس حسینی کے امام زین العابدین (ع) ہسپتال میں پیچیدہ ایمرجنسی انجیو پلاسٹی کے ذریعے مریض کی جان بچا لی گئی

حرم مقدس حسینی سے وابستہ امام زین العابدین (علیہ السلام) ٹیچنگ ہسپتال نے اپنی طبی ٹیم کی اس کامیابی کا اعلان کیا ہے جس میں ایک پیچیدہ ایمرجنسی کیتھٹرائزیشن (قسطرة) کے ذریعے ایک ایسے مریض کی زندگی بچائی گئی جو دل کے انتہائی خطرناک عارضے میں مبتلا تھا، جس میں شرح اموات بہت زیادہ ہوتی ہے۔

ہسپتال کے شعبہ میڈیا کے ذمہ دار مصطفیٰ الموسوی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ: "حرم مقدس حسینی کے امام زین العابدین (ع) ہسپتال کی طبی ٹیم نے 59 سالہ مریض کی ایک پیچیدہ ایمرجنسی انجیو پلاسٹی کامیابی سے مکمل کی ہے۔ مریض کے دل کی بائیں مین آرٹری میں شدید اور نایاب قسم کی رکاوٹ تھی، جسے عالمی سطح پر دل کی خطرناک ترین بیماریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔"

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ: "مریض کو جب ایمرجنسی وارڈ لایا گیا تو وہ سینے میں شدید درد کی کیفیت میں تھا۔ ای سی جی (ECG) اور دیگر ٹیسٹوں سے معلوم ہوا کہ دل کے پٹھوں کو خون فراہم کرنے والی مرکزی شریان کے آغاز میں ہی مکمل بلاکیج ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ: "جب مریض کو اوپن ہارٹ سرجری کے لیے تیار کیا جا رہا تھا، تو اچانک اس کی حالت بگڑ گئی اور دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو گئی، جس پر اسے فوری طور پر الیکٹرک شاک دے کر بحال کیا گیا۔ وقت کی کمی اور حالت کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے، ماہر ڈاکٹروں نے سرجری کے بجائے فوری طور پر 'تھراپیٹک کیتھٹرائزیشن' (انجیو پلاسٹی) کا فیصلہ کیا۔"

انہوں نے بتایا کہ: "طبی ٹیم بند شریان کو کامیابی سے کھولنے اور اس میں 'ڈرگ ایلوٹنگ اسٹینٹ' (شبكة دوائية) ڈالنے میں کامیاب رہی، جس سے خون کی روانی بحال ہو گئی اور دل کی دھڑکن اپنی نارمل حالت میں واپس آ گئی۔"

یہ کامیابی امام زین العابدین (ع) ہسپتال کی مسلسل کامیابیوں کا تسلسل ہے، جو حرم مقدس حسینی کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد جدید ترین ٹیکنالوجی اور ماہر افرادی قوت کے ذریعے اعلیٰ ترین طبی خدمات فراہم کرنا اور مریضوں کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے سے بچانا ہے۔