حرم مقدس حسینی کے شعبہ صحت و طبی تعلیم کے تحت قائم ہیلتھ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر نے 15 شعبان (ولادتِ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف) کی مناسبت سے زیارت کے تمام طبی انتظامات مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ زیارتِ شعبانیہ کے میڈیکل انچارج ڈاکٹر اسامہ عبدالحسن نے (آفیشل ویب سائٹ) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "حرم مقدس حسینی کے ہیلتھ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر نے زیارتِ نصف شعبان کے لیے تمام ضروری طبی تیاریاں مکمل کر لی ہیں"۔ انہوں نے وضاحت کی کہ "مرکز نے زائرین کو طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے ایک جامع پلان تیار کیا ہے، جس میں طبی مراکز (میڈیکل کیمپس)، پیرامیڈیکل ٹیمیں، مریضوں کی منتقلی کے لیے ایمبولینسز، اور وزارتِ صحت و حرم مقدس حسینی کے ہسپتالوں کے تعاون سے خصوصی ایمبولینسز کی تعیناتی شامل ہے"۔ ڈاکٹر اسامہ نے مزید بتایا کہ "حرم مقدس حسینی کے متعلقہ شعبوں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے (6) مختلف مقامات پر طبی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے دو صحنِ حسینی کے اندر اور چار صحنِ حسینی کے اطراف میں واقع ہیں"۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ "اس عمل میں ڈاکٹروں، نرسوں اور رضاکاروں سمیت (250) طبی عملہ حصہ لے رہا ہے، جو دو سطحوں پر کام کرے گا: پہلی سطح ریسکیو اور ابتدائی طبی امداد کی ہے، جبکہ دوسری سطح پر ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہنگامی صورتحال (ایمرجنسی) سے نمٹنے کے لیے مخصوص مراکز کام کریں گے"۔ ان کے بقول "مرکز نے سٹریچر برداروں کی (12) ٹیمیں تعینات کی ہیں جو صحن کے اندر اور باہر متحرک رہیں گی، جن میں (150) سے زائد مرد و خواتین شامل ہیں، بشمول (26) ماہر پیرامیڈیکس جو ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت رکھتے ہیں"۔ مزید برآں، پلان میں (200) افراد ڈیٹا انٹری اور دستاویزات کی تیاری کے لیے، جبکہ (100) سے زائد افراد لاجسٹک سپورٹ کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ اقدامات حرم مقدس حسینی کی ان کوششوں کا حصہ ہیں جو کربلا میں زیارتِ نصف شعبان کے لیے عراق اور بیرونِ ملک سے آنے والے زائرین کو بہترین طبی و صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔
