بصرہ: حرم مقدس حسینی کے زیرِ انتظام آٹزم سینٹر کا کام آخری مراحل میں داخل، 88 فیصد تعمیر مکمل

حرم مقدس حسینی کے اسٹریٹجک منصوبوں کے شعبے نے عراق کے جنوبی صوبے بصرہ میں آٹزم (Autism) کے مریضوں کے علاج کے لیے قائم کیے جانے والے سینٹر کی تعمیر میں نمایاں پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ منصوبے کا 88 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

اسٹریٹجک منصوبوں کے شعبے کے سربراہ انجینئر محمد ضیاء محمد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: "حرم مقدس حسینی کا انجینئرنگ اور تکنیکی عملہ بصرہ میں آٹزم سینٹر کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے تیز رفتاری سے کام کر رہا ہے۔ یہ منصوبہ اب اندرونی اور بیرونی فنشنگ کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔"

منصوبے کی تفصیلات اور تعمیراتی خصوصیات:

کل رقبہ: یہ منصوبہ 5 دونم زمین پر محیط ہے، جس کا تعمیراتی رقبہ 10,060 مربع میٹر ہے۔ڈیزائن: یہ عمارت 3 منزلوں پر مشتمل ہے جو تمام جدید سہولیات سے لیس ہے۔بیرونی کام: بیرونی حصوں پر پتھر کی ٹائلیں، 'کرٹن وال' سسٹم اور 'بورڈیکس' مٹیریل لگانے کا کام جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سامنے اور پیچھے کے باغات کی تیاری بھی شروع کر دی گئی ہے تاکہ ایک صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔اندرونی کام: اندرونی چھتوں ، فرش، سیڑھیوں اور جدید لفٹوں کی تنصیب کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ اب صرف اندرونی رنگ و روغن اور 'علاجی سوئمنگ پول' کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

سینٹر میں موجود سہولیات:

یہ مرکز آٹزم کے شکار بچوں کی بحالی کے لیے درج ذیل سہولیات فراہم کرے گا:

تعلیمی شعبہ: 26 تعلیمی کلاس رومز۔علاجی کمرے: حسی علاج ، سماجی، نفسیاتی، فیزوتھراپی اور اسپیچ تھراپی (بولنے کی مشق) کے مخصوص کمرے۔ترقیاتی سرگرمیاں: بچوں کی مہارتیں بڑھانے کے لیے ایک 'تخیلی شہر' ، ڈرائنگ ہال اور اسپورٹس ہال۔کھیل کے میدان: فٹ بال اور والی بال کے گراؤنڈز اور وسیع سبزہ زار۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حرم مقدس حسینی، اعلیٰ دینی قیادت کے نمائندے اور متولیِ شرعی شیخ عبدالمہدی الکربلائی کی ہدایات کی روشنی میں، خاص طور پر صحت اور تعلیم کے شعبوں میں متعدد خدماتی منصوبے نافذ کر رہا ہے تاکہ آٹزم کے شکار بچوں کو عالمی معیار کا علاجی ماحول فراہم کیا جا سکے۔