\"اپنے گھروں میں قیام کرو\" سے ملکیت خانہ نبی خدا کی وراثت کی حقیقت

معارف اسلامیہ

2018-06-06

298 مشاہدہ

اس آیت قرآنی میں لفظ "اپنے گھروں" سے کی بھی لحاظ سے یہ استنباط نہیں کیا جاسکتا کہ خانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ ان کی زوجات کی ملکیت تھے اور اس کلام کو قرآن کریم کی دوسری آیت اس طرح ثابت کرتی ہے کہ یہ گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی ملکیت ہیں " اے ایمان والو! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کے گھر میں بغیر اجازت کے داخل نہ ہو یہاں تک کہ تمہیں اذن (دخول) دیا جائے" اور اس آیت میں خانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی نسبت فقط نبی کریم سے خاص ہے اور آیت کریمہ "اپنے گھروں میں قیام کرو" سے مراد فقط حیات ظاہریہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ ہے مگر اس کے ساتھ ہی دو صورتوں میں خانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ آپ کی زوجات کو منتقل ہوسکتا ہے یا آپ اپنی زندگی میں فرما دیں یا ما بعد پردہ پوشی وراثت میں منتقل ہو ۔

جب کہ ہم جانتے ہیں کہ دوسری صورت میں محال ہے کیونکہ " انبیاء وراثت ترک نہیں کیا کرتے " کا عقیدہ رکھنے والے جب جناب سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے لئے عطاء کئے گئے فدک کو قبول نہیں کرتے کس طرح وراثت کے لئے استنباط کرسکتے ہیں ۔

نئے مواضیع

اکثر شائع

شایدآپ کو بھی پسند آئے