حضرت علی علیہ السلام کو خلیفہ چہارم ماننے پر بحث

معارف اسلامیہ

2015-07-22

2617 مشاہدہ

اہل سنت والجماعت سے اکثر سننے ميں آيا ہے کہ کيا فرق ہے اگر حضرت علي عليہ السلام کو حضرت محمد صلي اللہ عليہ والہ کے بعد چوتھا خليفہ مان ليا جائے ؟ پس چاہے فرق پہلا خليفہ اور چوتھا خليفہ ميں کيا رہ جاتا ہے کيونکہ اجماعا تو يہ بات مسلم ہے کہ وہ خليفہ المسلمين ہيں فرق صرف رتبہ ميں ہے !

ہم (شيعہ اثنا عشري) کہ پہلا اورچوتھا خليفہ ماننے ميں بہت وسيع فرق ہے کيونکہ خلافت ميں بات صرف تقدم و تاخر کي نہيں بلکہ اس ميں ہمارا موضوع اللہ سبحانہ و تعالي کي طرف سے منصوص ہونا يا نہ ہونا ہے کيونکہ کيونکہ امامت انتخابي قوانين اور شوريٰ يا لوگوں کے اختيار ميں نہيں بلکہ صرف اللہ سبحانہ وتعالي کے اختيار ميں ہے کہ وہ جسے چاہے اپنے اولياء ميں سے قرار دے ۔

اگر امامت و خلافت اتني مھم نہ ہوتي تو آيات قرانيہ اور احاديث نبويہ اہل سنت کے مصادر ميں يہ احاديث نہ ہوتيں جس ميں رسول کريم صلي اللہ عليہ والہ حضرت علي ابن ابيطالب عليہ السلام کو اپنے بعد يوم غدير ميں اپنے بعد خليفہ مقرر فرمايا اور فرمايا "ياعلي انت خليفتي من بعدي في کل مومن ومومنہ " اور ھم سب جانتے ہيں کہ کلام رسول اللہ صلي اللہ عليہ والہ کلام وحي ہوتا ہے ۔

ولو بالفرض اگر ہم يہ بات مان بھي ليں کہ پہلے يا چوتھا خليفہ ماننے ميں کوئي حرج نہيں ہے تب بھي کافي ايسے عوارض ہيں جو اہل سنت نے ہمارے اور اہل سنت کے درميان ڈالے ہيں ۔۔ مثلا اگر جيسا کہ اہل سنت کا بيان ہے کہ جس طرح حضرت علي عليہ السلام چوتھے خليفہ ہيں تو آپ کو چاہيئے کہ ان کے حکم کو ايسے مانيں جيسے پہلے خليفہ کو مانتے ہيں

مثلا

جيسا کہ پہلے خليفہ پر جن لوگوں نے خروج کيا تھا ان کو دين سے خارج ہونے کا فتوي لگا کر قتل کيا گيا اور کسي نے خليفہ اول کے اس فعل پر اعتراض نہيں کيا؟ ليکن ہم ديکھتے ہيں کہ جن لوگوں نے خليفہ چہارم پر خروج کيا اور جنگ کي ان پر اہل سنت کي طرف سے مرتد ہونے کا کوئي فتوي نہيں ہے اور نہ ہي انہيں دين سے خارج ہونے کے حکم ميں کہا گيا؟

اور دين سے خارج ہونے کے بارے ميں بھي ہم اہل سنت کے اہم قاعدہ کو جس سے استدلال کرتے ہيں کہ " جس نے اپنے وقت کے امام کے خلاف خروج کيا وہ جاھليت کي موت مرا" اور يہ پہلا فرق ہے کہ جس ميں اہل سنت نے اطاعت خلافت ميں فرق رکھا ۔

اگر رسول کريم صلي اللہ عليہ والہ کے بعد حضرت علي ابن ابيطالب عليہ السلام خليفہ ہوتے تو آج تک پھيلا ہوا يہ تفرقہ و ظلم نہ ہوتا کيونکہ حضرت علي ابن ابيطالب عليہ السلام کلام الہي سے امت ميں حکم کيا کرتے تھے ۔ اور اگر حضرت علي ابن ابيطالب عليہ السلام رسول کريم صلي اللہ عليہ والہ کے بعد خليفہ ہوتے تو آج امت مسلمہ گمراہي ميں نہ ہوتي اور آج جو بھي گمراہي ہم ديکھ رہے ہيں وہ صادق الامين صلي اللہ عليہ والہ کے قول مقدس کي نافرماني کي وجہ سے ہے کہ جس ميں آپ صلي اللہ عليہ والہ نے فرمايا " ميں تم ميں تو گرانقدر چيزيں چھوڑے جارہا ہوں کتاب اللہ اور ميري اہلبيت عليہم السلام کہ اگر ان سے متمسک رہوگے تو ميرے بعد گمراہ نہ ہوگے ۔ اور آج دنيا ميں پھيلي گمراہي جس کو ہم ديکھ رہے ہيں وہ امر الہي اور حکم رسول صلي اللہ عليہ الہ کے ثقلين (دو گرانقدر) کو نا ماننے پر ہے

نئے مواضیع

اکثر شائع

شایدآپ کو بھی پسند آئے