حرم مقدس حسینی کے زیرِ انتظام وارث انٹرنیشنل کینسر ہسپتال میں آٹھ گھنٹے طویل پیچیدہ سرجری کامیابی سے مکمل

حرم مقدس حسینی کے شعبۂ صحت و طبی تعلیم سے وابستہ وارث انٹرنیشنل کینسر ہسپتال نے اعلان کیا ہے کہ اس کی طبی ٹیم نے 30 سالہ خاتون کی دو پیچیدہ سرجریاں بیک وقت کامیابی کے ساتھ انجام دیں، جن میں مجموعی طور پر آٹھ گھنٹے لگے۔

ان سرجریوں میں دونوں چھاتیوں کو نکالنے اور فوری طور پر ان کی دوبارہ تعمیر (Breast Reconstruction) کے علاوہ مستقبل میں سرطان کے خطرے کو کم کرنے کے لیے احتیاطی طور پر دونوں بیضہ دانیوں (Ovaries) کو نکالنے کا عمل بھی شامل تھا۔ یہ اقدامات ایک موروثی جینیاتی تبدیلی کے باعث مستقبل میں سرطان کے خطرات کو کم کرنے کے لیے کیے گئے۔

ادارے کے کنسلٹنٹ برائے جراحیِ سرطانِ پستان ڈاکٹر سلام السرحان نے سرکاری ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مریضہ نے ہسپتال سے رجوع کیا تھا، جہاں ضروری طبی معائنے اور ٹیسٹوں کے بعد معلوم ہوا کہ وہ بائیں چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مریضہ کی کم عمری کے پیش نظر جدید جینیاتی ٹیسٹ بھی کیے گئے، جن سے BRCA1 جین میں موروثی تبدیلی کی تشخیص ہوئی۔ یہ جینیاتی تبدیلی چھاتی اور بیضہ دانی کے سرطان کے خطرے میں اضافے سے منسلک ہے۔

ڈاکٹر سلام السرحان کے مطابق طبی ٹیم نے خصوصی طبی اجلاس میں مریضہ کی کیفیت کا تفصیلی جائزہ لیا اور مریضہ و اس کے اہل خانہ کے ساتھ علاج کے مختلف امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے بعد متاثرہ چھاتی کو مکمل طور پر نکالنے، دوسری چھاتی کو احتیاطی طور پر نکالنے اور دونوں کی فوری تعمیرِ نو کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ماہرینِ امراضِ نسواں و سرطان کی ٹیم کے تعاون سے دوربین (لیپروسکوپی) کے ذریعے دونوں بیضہ دانیوں کو بھی احتیاطی طور پر نکالا گیا۔

دوسری جانب، امراضِ نسواں کے سرطان کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر ربیع حنا نے بتایا کہ BRCA1 جین میں موروثی تبدیلی کی حامل خواتین میں بیضہ دانی کے سرطان کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے، جو بعض طبی تخمینوں کے مطابق 50 سے 60 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ احتیاطی طور پر بیضہ دانیوں کو نکالنے سے اس خطرے کو کم کرکے 5 فیصد سے بھی کم سطح تک لایا جا سکتا ہے، تاہم اس کا انحصار مریضہ کی انفرادی طبی کیفیت اور طبی جائزے پر ہوتا ہے۔

ڈاکٹر ربیع حنا نے بتایا کہ چھاتی کے سرطان کی سرجری اور امراضِ نسواں کے سرطان کی سرجری کرنے والی دونوں ٹیموں نے شعبۂ بے ہوشی کے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کیا، جس کی بدولت دونوں آپریشن ایک ہی نشست اور ایک ہی مرتبہ بے ہوشی دے کر مکمل کیے گئے۔ اس طرح مریضہ کو بار بار آپریشن اور بے ہوشی کے مراحل سے گزرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

انہوں نے تصدیق کی کہ دونوں سرجریاں کامیابی سے مکمل ہوئیں اور مریضہ اچھی صحت کے ساتھ ہسپتال سے رخصت ہوگئی۔

یہ کامیابی حرم مقدس حسینی کی جانب سے اپنے طبی اداروں کی معاونت، جدید طبی ٹیکنالوجی اور آلات کی فراہمی اور پیچیدہ طبی کیسز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والے ماہر طبی عملے کی تیاری و تقرری کے سلسلے میں جاری کوششوں کا حصہ ہے، تاکہ عراق کے مختلف صوبوں سے آنے والے مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔