حرم مقدس حسینی کے سیکریٹری جنرل حسن رشید جواد العبائیجی: اربعینِ امام حسین (علیہ السلام) ایک عالمی اہمیت کا حامل مذہبی اجتماع ہے؛ زیارت کے دوران نظم و نسق، ماحولیاتی تحفظ اور باہمی تعاون کو فروغ دینا اولین ترجیح ہے۔
حرم مقدس حسینی کے سیکریٹری جنرل استاد حسن رشید جواد العبائیجی نے اربعینِ امام حسین (علیہ السلام) کے چوتھے سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زیارتِ اربعین اسلامی دنیا کے سب سے بڑے مذہبی اجتماعات میں سے ایک ہے، جس پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہوتی ہیں۔ یہ کانفرنس حرم مقدس حسینی کے شعبہ ہیئات و مواکبِ حسینیہ کے زیر اہتمام منعقد ہوئی، جس میں متعلقہ اداروں کے سربراہان اور عراق کے مختلف صوبوں سے آئے ہوئے مواکب کے نمائندوں نے شرکت کی۔
استاد حسن رشید العبائیجی نے اپنے خطاب میں کہا کہ محرم اور صفر کے مہینے ہماری کارکردگی اور خدمات کے معیار کو جانچنے کا سالانہ موقع ہوتے ہیں، کیونکہ اس دوران پوری دنیا کی توجہ کربلا معلیٰ کی طرف ہوتی ہے، جو ہم سے زائرین کے لیے بہترین خدمات کی فراہمی کا تقاضا کرتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حرم مقدس حسینی بجلی، پانی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور مواکب کے نظم و نسق کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مواکبِ حسینیہ، سرکاری حکام اور دونوں مقدس حرموں (حسینی و عباسی) کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کو زیارت کی کامیابی کے لیے کلیدی قرار دیا۔
سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ کربلا سخاوت، مہمان نوازی اور خدمت کا بہترین نمونہ ہے، تاہم اب ہماری توجہ انتظامی امور کو مزید منظم بنانے پر ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ بجلی اور پانی کے ذرائع کا غلط استعمال نہ کیا جائے اور ماحولیات، خاص طور پر دریائے فرات، کو صاف رکھنے کا خاص خیال رکھا جائے کیونکہ یہ شہر کے لیے پینے کے پانی کا بنیادی ذریعہ ہے۔
انہوں نے مرجعیتِ عالیہ کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پانی کے وسائل کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ دریاؤں میں کوڑا کرکٹ یا ذبیحہ کے فضلے کو بہانے سے گریز کیا جائے اور جانوروں کو صرف منظور شدہ مذبح خانوں میں ہی ذبح کیا جائے تاکہ ماحولیاتی تحفظ اور زائرین کی صحت کو یقینی بنایا جا سکے۔
آخر میں انہوں نے مواکب کے مالکان سے اپیل کی کہ وہ حکام کے ساتھ مکمل تعاون کریں، سڑکوں کو بلاوجہ بند نہ کریں اور نہ ہی ایسی جگہوں پر قبضہ کریں جس سے زائرین کی نقل و حمل میں رکاوٹ پیدا ہو۔ انہوں نے تمام متعلقہ ہدایات پر عمل کرنے پر زور دیا تاکہ زیارتِ اربعین کے دوران زائرین کی آمدورفت کو پرسکون اور کامیاب بنایا جا سکے۔
