اعلیٰ مذہبی قیادت کے نمائندے کی ہدایت پر.. حرم مقدس حسینی نے رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران آٹزم کے شکار بچوں کی دیکھ بھال اور علاج کے لیے (9) ارب دینار خرچ کر دیے

حرم مقدس حسینی کے ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن بورڈ نے آٹزم کے شکار بچوں کی دیکھ بھال اور علاج کے لیے فراہم کردہ مالی اور لاجسٹک تعاون کی تفصیلات کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد متاثرہ بچوں کو مفت اور انتہائی کم خرچ پر طبی اور بحالی کی خدمات فراہم کرنا ہے، اور یہ سب کچھ اعلیٰ مذہبی قیادت کے نمائندے، شیخ عبدالمہدی الکربلائی کی براہِ راست ہدایت پر کیا جا رہا ہے۔

بورڈ کے سربراہ، ڈاکٹر حیدر حمزہ العابدی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "حرم مقدس حسینی نے اپنے ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن بورڈ کے ذریعے، رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران آٹزم اور نشوونما کے امراض کے علاج کے لیے 'السبطین فاؤنڈیشن' کو (9) ارب عراقی دینار فراہم کیے ہیں۔"

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ معاونت شیخ عبدالمہدی الکربلائی کی براہِ راست ہدایات کے تحت ہے تاکہ متاثرہ بچوں کے لیے علاج اور بحالی کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ڈاکٹر حیدر نے مزید کہا کہ "السبطین فاؤنڈیشن آج اس شعبے میں خطے کی سب سے بڑی تنظیم بن چکی ہے، جو آٹزم کے (11) مربوط مراکز کا انتظام سنبھالتی ہے۔ یہ مراکز ملک کے کئی صوبوں میں پھیلے ہوئے ہیں، جن میں کربلائے معلیٰ اور بصرہ میں دو خصوصی اکیڈمیاں شامل ہیں جو علاج اور تربیت فراہم کرتی ہیں۔"

بورڈ کے سربراہ نے یہ بھی بتایا کہ "حرم مقدس حسینی کے ترقیاتی منصوبوں کے نتیجے میں ان میں سے ایک اکیڈمی نے خطے میں آٹزم مراکز کے لیے سب سے اعلیٰ بین الاقوامی ایکریڈیشن (اعتماد) حاصل کر لیا ہے۔ یہ کامیابی عالمی سطح پر منظور شدہ جدید ترین علاج اور تربیتی پروگراموں اور ٹیکنالوجیز کے استعمال میں آنے والی معیاری تبدیلی کی عکاس ہے۔"

قابل ذکر ہے کہ حرم مقدس حسینی اپنے طبی بازو 'ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن بورڈ' کے ذریعے بڑے اسٹریٹجک منصوبوں کا آغاز اور سرپرستی جاری رکھے ہوئے ہے، جن کا مقصد جدید طبی خدمات فراہم کرنا ہے جو عالمی مراکز کا مقابلہ کر سکیں، تاکہ پورے عراق کے شہریوں کو ان سہولیات سے استفادہ حاصل ہو۔