یومِ دحو الارض: ایک عظیم الٰہی نعمت

 

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مخلوقات کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، جن میں سے ایک خاص نعمت "یومِ دحو الارض" (زمین کے بچھائے جانے کا دن) ہے۔ اس سے مراد زمین کی تخلیق، اس میں وسائلِ حیات کی فراہمی، پانی کا اخراج، چراگاہوں کا قیام اور رات و دن کا نظام وضع کرنا ہے۔

اہلِ بیتِ عصمت (ع) کی روایات اور قرآن مجید اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

"اور زمین کو اس (آسمان) کے بعد اس نے بچھایا (دحاها)۔" (سورہ نازعات: 30)

رسول اللہ (ص) کا ارشاد ہے: "اللہ تعالیٰ نے ذوالقعدہ کی پچیسویں رات رحمت نازل فرمائی، پس جس نے اس دن کا روزہ رکھا، اسے 70 سال کے روزوں کا ثواب ملے گا۔"

زمین اور آسمان کی تخلیق میں تقدیم و تاخیر

علماء کے درمیان اس بحث پر مختلف آراء ہیں کہ زمین پہلے پیدا ہوئی یا آسمان:

زمین کی تقدیم: بعض کا خیال ہے کہ زمین پہلے بنی، جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت 29 میں ہے کہ اللہ نے زمین کی تمام چیزیں پیدا کیں پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا۔آسمان کی تقدیم: بعض کے نزدیک آسمان پہلے بنا۔ تاہم، مفسرین کے مطابق "دحو" (بچھانا) اور "خلق" (پیدا کرنا) میں فرق ہے۔ زمین کی بنیاد پہلے رکھی گئی، پھر آسمان بنا، اور اس کے بعد زمین کو بچھایا (دحو) گیا۔

کعبہ کی عظمت: زمین کی ماں

روایات کے مطابق کعبہ زمین کی تخلیق سے پہلے موجود تھا اور یہ زمین کی اصل اور ماں ہے۔ امام جعفر صادق (ع) کے مطابق اللہ نے زمین کو کعبہ کے نیچے سے پھیلانا شروع کیا، پھر منیٰ اور پھر عرفات تک پھیلایا۔

"دحو" کے لغوی اور سائنسی معنی

لغت میں "دحو" کے معنی پھیلانے اور بچھانے کے ہیں۔ بعض لغوی ماہرین کے مطابق اس لفظ کا مادہ "دحیہ" (بیضہ/انڈا) سے مشابہ ہے، جو زمین کی گول (بیضوی) شکل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ قرآن نے یہ حقیقت اس وقت بیان کی جب جدید سائنسی آلات کا وجود بھی نہ تھا۔

یومِ دحو الارض کے اعمال

اس مبارک دن (25 ذوالقعدہ) کے لیے درج ذیل اعمال منقول ہیں:

روزہ: اس دن کا روزہ 70 سال کے روزوں کے برابر ثواب رکھتا ہے۔ذکرِ الٰہی: حضرت علی (ع) کے مطابق جو گروہ اس دن ذکرِ خدا کے لیے اکٹھا ہوتا ہے، اللہ ان کی حاجتیں پوری فرماتا ہے۔غسل: پاکیزگی کی نیت سے غسل کرنا مستحب ہے۔مخصوص نماز: چاشت کے وقت دو رکعت نماز، جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد 5 مرتبہ سورہ شمس پڑھی جائے۔ نماز کے بعد "لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إلّا بِاللهِ الْعَلِىِّ الْعَظيمِ" اور مخصوص دعا پڑھی جائے۔دعا: شیخ طوسی نے "مصباح" میں ایک طویل اور خوبصورت دعا نقل کی ہے جس کا آغاز "اللّهُمَّ داحِيَ الْكَعْبَةِ..." سے ہوتا ہے۔شکر گزاری: نعمتوں پر شکر اور گناہوں سے دوری اختیار کرنا۔

اس دن پیش آنے والے تاریخی واقعات

25 ذوالقعدہ صرف دحو الارض کا دن ہی نہیں بلکہ کئی عظیم مناسبتوں کا حامل ہے:

حضرت آدم (ع) کا زمین پر ہبوط (تشریف آوری)۔حضرت ابراہیم (ع) اور حضرت عیسیٰ (ع) کی ولادتِ با سعادت۔رسول اللہ (ص) کا مدینہ سے حجۃ الوداع کے لیے نکلنا۔امام علی رضا (ع) کا مدینہ سے خراسان کی طرف سفر کا آغاز۔محمد بن ابی بکر کی ولادت۔

نتیجہ: یومِ دحو الارض اللہ کی رحمتوں کے نزول کا دن ہے۔ یہ عبادت، توبہ اور کائنات کی تخلیق میں غور و فکر کرنے کا بہترین موقع ہے۔

: Toseef Raza Khan