حرم مقدس حسینی سے وابستہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ (ع) ویمن اسپتال نے کربلا معلیٰ آنے والی ایک پاکستانی زائرہ کے (4) انتہائی پیچیدہ اور کامیاب سرجری آپریشنز کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جنرل سرجری کے ماہر ڈاکٹر علی المیالی نے بتایا کہ: "اسپتال کا طبی عملہ کربلا آنے والی ایک پاکستانی خاتون زائر کے چار پیچیدہ آپریشنز یکجا کامیابی سے کرنے میں کامیاب رہا ہے۔"
انہوں نے وضاحت کی کہ: "مریضہ پتے کی پتھری میں مبتلا تھیں جس کی وجہ سے ان کے لبلبہ میں شدید سوزش ہو چکی تھی، مزید یہ کہ وہ 'بریٹل ڈائیبیٹیز' (شدید غیر متوازن شوگر) کی مریضہ بھی تھیں۔"
انہوں نے مزید کہا: "مکمل جراحی کا فیصلہ کرنے سے پہلے مریضہ دو ماہ تک سخت طبی نگرانی اور روایتی علاج کے عمل سے گزریں۔ آپریشن کے دوران ان کا پتہ نکالا گیا، لبلبے کی رسولی (pseudocyst) کو معدے کے ساتھ جوڑا گیا، اور ساتھ ہی بیضہ دانی کے رسولیوں کو بھی نکالا گیا۔"
اسی حوالے سے اینستھیزیا (بے ہوشی) کی ماہر ڈاکٹر ہالہ تحسین نے بتایا کہ: "مریضہ کا شمار انتہائی ہائی رسک کیسز میں ہو رہا تھا، کیونکہ ان کا ایچ بی اے ون سی (HbA1c) 9.2% تک پہنچا ہوا تھا، جبکہ بلڈ شوگر لیول 475 ملی گرام/ڈیسی لیٹر تھا۔"
انہوں نے مزید کہا: "طبی عملے نے تمام ضروری ٹیسٹ کیے اور آپریشن سے پہلے شوگر لیول، گردوں کے افعال اور جسم کے باقی اعضاء کی کارکردگی کو کنٹرول کیا، جس نے اس آپریشن کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔"
یہ طبی کامیابیاں حرم مقدس حسینی کی ان کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد بہترین اور ماہر طبی خدمات فراہم کرنا، طبی صلاحیتوں کی سرپرستی کرنا، اور علاج معالجے کے اعلیٰ ترین معیار کو یقینی بنانا ہے، تاکہ شہریوں اور زائرین پر مالی بوجھ کم کر کے انہیں جدید ترین صحت کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
