اعلیٰ مذہبی قیادت کے نمائندے کا امام مجتبیٰ (ع) ہسپتال کی توسیع کی افتتاحی تقریب سے خطاب: عراق میں کچھ بھی ناممکن نہیں، جو ناممکن ہے اسے ممکن بنایا جا سکتا ہے

اعلیٰ مذہبی قیادت کے نمائندے شیخ عبدالمہدی الکربلائی نے امام مجتبیٰ (ع) ہسپتال برائے امراضِ خون و بون میرو ٹرانسپلانٹ کی توسیعی عمارت کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے، کیونکہ ہمارے پاس بہترین صلاحیتیں اور ہنرمند افراد موجود ہیں۔

ان کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

عراق میں ناممکن کچھ نہیں: انہوں نے زور دیا کہ جو چیز ناممکن نظر آتی ہے اسے ممکن بنایا جا سکتا ہے اور ممکن کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ بون میرو ٹرانسپلانٹ جیسے پیچیدہ آپریشنز جو کبھی عراق میں ناممکن سمجھے جاتے تھے، اب یہاں کامیابی سے ہو رہے ہیں۔انفرادیت اور جدت: حرم مقدس حسینی کی انتظامیہ کا مقصد ہسپتالوں میں تخصص اور جدت کو فروغ دینا ہے۔ اسی لیے امام مجتبیٰ (ع) ہسپتال (امراضِ خون)، الثقلین ہسپتال بصرہ، اور امراضِ قلب و جگر کے مراکز جیسے مخصوص ادارے قائم کیے جا رہے ہیں۔علاقائی برتری کا ہدف: شیخ الکربلائی نے کہا کہ ہمارا عزم صرف عراق تک محدود نہیں بلکہ ہم ان طبی اداروں کو علاقائی سطح پر ممتاز بنانا چاہتے ہیں۔انسانی ہمدردی اور مفت علاج: ہسپتال کی کامیابی کا ایک بڑا راز طبی ترقی اور انسانی ہمدردی کا امتزاج ہے۔ 15 سال سے کم عمر بچوں کے بون میرو ٹرانسپلانٹ آپریشنز مکمل مفت کیے جا رہے ہیں، جبکہ دیگر مریضوں کو بھی بھاری رعایت دی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ اس نئی توسیع کے بعد ہسپتال میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کے 33 یونٹس فعال ہو گئے ہیں، جس کے بعد یہ اپنی نوعیت اور گنجائش کے لحاظ سے عرب دنیا کا سب سے بڑا مرکز بن گیا ہے۔