مومن کا سب سے قیمتی اور مؤثر ہتھیار اور اس کے استعمال کا صحیح طریقہ

امت کی درپیش مشکلات، آزمائشوں کی سختی اور بعض الٰہی وعدوں کے پورا ہونے میں تاخیر کے اس دور میں، ایک مومن کے شعور میں یہ بنیادی سوال ابھرتا ہے کہ: جدوجہد اور غلبے کی مساوات میں دعا کا مقام کیا ہے؟ کیا دعا محض عاجزی کے وقت ایک روحانی پناہ گاہ ہے، یا یہ فتح کی تخلیق اور حقیقت کو بدلنے میں ایک فعال عنصر ہے؟

قرآن کریم دعا کو زندگی کی تحریک سے کٹی ہوئی محض ایک جذباتی کیفیت کے طور پر پیش نہیں کرتا، بلکہ اسے ایک دقیق الٰہی نظام کا حصہ بناتا ہے جو تاریخ اور معاشروں پر حاکم ربانی قوانین (سننِ الٰہیہ) سے جڑا ہوا ہے۔ قرآنی منطق میں دعا عمل کا متبادل نہیں ہے اور نہ ہی ذمہ داری سے فرار کا راستہ ہے، بلکہ یہ اللہ کے سامنے انسانی محتاجی کے گہرے شعور اور اس ادراک کا اظہار ہے کہ اس کائنات کی ہر حرکت اپنی قوت "مبدأِ اعلیٰ" (اللہ) سے تعلق کے ذریعے ہی حاصل کرتی ہے۔

دوسری طرف، عترتِ طاہرہ (علہم السلام) نے اس تصور کو مزید گہرا کیا، اور دعا کو ایک "رسالتی انسان" کی تعمیر کے مکمل مدرسے میں بدل دیا؛ ایک ایسا انسان جو معرفت اور عمل، اور اللہ سے توسل اور اسباب کو اختیار کرنے کے درمیان جمع کرتا ہے۔ وہ نہ اپنی حقیقت سے کٹتا ہے اور نہ ہی محض خواہشات کی دنیا میں گم ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک دعا ایک ہتھیار ہے، ایک موقف ہے اور تربیت کا ایک ایسا طریقہ ہے جو شعور بیدار کرتا ہے اور میدانِ مقابلہ میں صبر و ثبات کی روح پھونکتا ہے۔

اسی لیے، اس مضمون کی اہمیت دعا کی ایک ایسی شعوری قرآت کی کوشش میں ہے جو قرآن کے نصوص اور عترتؑ کی تعلیمات کو یکجا کرے، تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ دعا کس طرح ایک محدود انفرادی کیفیت سے نکل کر ایک مؤثر تمدنی قوت میں بدل جاتی ہے، جو الٰہی وعدے کے لیے زمین ہموار کرنے میں حصہ لیتی ہے اور امت کو اللہ کے ان قوانین پر دوبارہ اعتماد دلاتی ہے جو کبھی نہیں بدلتے۔

دعا کی حقیقت: لغت اور اصطلاح میں

لغت میں دعا: یہ مادہ "دعا، يدعو" سے ہے جس کے معنی پکارنے اور طلب کرنے کے ہیں۔ لغوی طور پر دعا کا جوہر "کسی دوسرے سے کسی کام کا مطالبہ کرنا" ہے۔ بعض نے اسے "ندا" (پکار) کے معنی میں لیا ہے، لیکن دعا ندا سے زیادہ عام ہے، کیونکہ یہ ہر قسم کی طلب پر صادق آتی ہے۔ پس دعا دراصل حاجت طلب کرنا ہے، جو "فاقد" (جس کے پاس نہ ہو) کی طرف سے "واجد" (جس کے پاس سب کچھ ہو) سے ہوتا ہے۔ کبھی یہ طلب کسی ایسی چیز کے لیے ہوتی ہے جو سرے سے موجود نہ ہو (جیسے نابینا کا بینائی مانگنا) اور کبھی کسی موجودہ نعمت کے تسلسل کے لیے (جیسے عافیت کی طلب)۔

اصطلاح میں دعا: یہ لغوی معنی کے قریب ہی ہے، مگر اس میں ایک شرط کا اضافہ ہے کہ "مدعو" (جس سے مانگا جا رہا ہے) وہ ہو جو ہر موجود چیز کا مالک ہو، اور یہ صفت صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی۔

مختصر یہ کہ: دعا بندے کا اپنے رب سے دنیاوی اور اخروی تمام معاملات میں مدد طلب کرنا ہے، یا عاجزی و انکساری کے ساتھ "ادنیٰ" کا "اعلیٰ" سے مطالبہ کرنا ہے۔

دعا کے چار ارکان

اللہ تعالیٰ سے دعا اور طلب کی حقیقت چار ارکان پر قائم ہے:

پہلا رکن: (داعی - دعا کرنے والا)

داعی کے لیے بہت سی صفات ضروری ہیں، جن میں اہم ترین یہ ہیں:

لوگوں کے حقوق (مظالم) سے پاک ہونا: داعی پر کسی کا حق غصب شدہ نہ ہو۔ حضرت علیؑ سے مروایت ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰؑ پر وحی کی: "بنی اسرائیل سے کہہ دیں کہ میرے گھروں میں پاک دلوں اور پاکیزہ ہاتھوں کے ساتھ داخل ہوں، میں تم میں سے اس کی دعا قبول نہیں کرتا جس کے ذمہ کسی مخلوق کا حق (مظلمہ) ہو"۔توبہ نصوح کے ساتھ دعا: دعا محض تمنا نہ ہو بلکہ سچی توبہ کے ساتھ ہو۔ امام صادقؑ نے ایک شخص سے فرمایا جس نے دعا کی قبولیت نہ ہونے کی شکایت کی تھی: "اگر تم اللہ کے احکامات کی اطاعت کرو اور پھر دعا مانگو تو وہ ضرور قبول کرے گا، لیکن تم اس کی مخالفت اور نافرمانی کرتے ہو"۔توجہ اور حضوریِ قلب: داعی جو کہہ رہا ہو اس کی طرف متوجہ ہو، غافل نہ ہو۔ اگر ذہن کہیں اور مشغول ہو تو وہ حقیقت میں دعا کرنے والا نہیں ہے۔دین میں تفقہ (سمجھ بوجھ): یہ ضروری ہے کہ انسان جانتا ہو کہ وہ کیا مانگ رہا ہے۔ کہیں وہ کوئی غیر شرعی یا حرام چیز تو نہیں مانگ رہا؟ امام صادقؑ کا فرمان ہے: "جو چاہتا ہے اس کی دعا قبول ہو، وہ اپنی کمائی حلال کرے اور لوگوں کے حقوق ادا کرے"۔الٰہی مرضی کو اپنی مرضی پر مقدم کرنا: بندہ اللہ کے سامنے اپنی محتاجی کا مکمل احساس رکھے۔ حضرت علیؑ فرماتے ہیں: "کسی بندے کا ایمان اس وقت تک سچا نہیں ہوتا جب تک اسے اپنے ہاتھ میں موجود چیز سے زیادہ اللہ کے ہاتھ میں موجود (فیصلے) پر بھروسہ نہ ہو"۔

دوسرا رکن: (مدعو - جس سے دعا کی جائے)

وہ صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے۔ قرآن فرماتا ہے: "اور تمہارے رب نے فرمایا: مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا"۔ اللہ نے دعا کو اپنی عبادت قرار دیا ہے اور اس سے منہ موڑنے والوں کو "مستکبرین" (تکبر کرنے والے) کہا ہے۔

تیسرا رکن: (موضوعِ دعا یا جس کے لیے دعا کی جا رہی ہو)

جس کے لیے خیر یا مطلوبہ چیز کی تمنا کی جائے۔ اگر انسان اپنے لیے دعا کر رہا ہے تو شرط ایمان ہے، اور اگر دوسروں کے لیے کر رہا ہے تو ضروری ہے کہ وہ کافر، ناصبی یا منافق نہ ہو (بشرطیکہ دعا بلندی اور عزت کی ہو)۔ ہاں، ان کی ہدایت اور اصلاح کی دعا کرنا مستحسن ہے، جیسے نبی کریم ﷺ نے اپنی قوم کے لیے ہدایت کی دعا فرمائی: "اے اللہ! میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ جانتے نہیں ہیں"۔

چوتھا رکن: (مدعو لہ - وہ حاجت جو طلب کی جا رہی ہو)

مطلوبہ چیز کے لیے شرائط یہ ہیں:

وہ شرعی طور پر حرام نہ ہو۔وہ امرِ محال (ناممکن) نہ ہو (جیسے دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی دعا)۔وہ عقلی اور شرعی طور پر پسندیدہ چیز ہو (جیسے عزت، نصرت، صحت، امامِ زمانہؑ کا ظہور، اور فتنوں سے نجات)۔

قرآن کریم میں دعا کی اہمیت

قرآن کی کئی آیات دعا کی فضیلت بیان کرتی ہیں:

الٰہی توجہ کا حصول: "کہہ دیجیے کہ اگر تمہاری دعا نہ ہوتی تو میرا رب تمہاری پرواہ نہ کرتا"۔ یعنی دعا ہی وہ ذریعہ ہے جس سے انسان اللہ کی نظر میں وقعت اور مقام حاصل کرتا ہے۔قبولیت کا وعدہ: "اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو (کہہ دیں) میں قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں"۔ یہ آیت اللہ کے بندے سے قرب اور قبولیت کی ضمانت ہے۔مضطر (بے قرار) کی داد رسی: "بھلا کون ہے جو مضطر کی پکار سنتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور اس کی تکلیف دور کرتا ہے؟"۔ روایات کے مطابق یہ آیت خاص طور پر امام مہدی (عج) کی شان میں نازل ہوئی ہے جب وہ خانہ کعبہ کے پاس اللہ کو پکاریں گے۔ناممکن کو ممکن بنانا: حضرت زکریاؑ کی دعا (بڑھاپے میں اولاد کی طلب) ہمیں سکھاتی ہے کہ اگرچہ کوئی چیز ظاہری اسباب میں مشکل لگے، اللہ کی قدرت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔اخلاص کی اہمیت: "پس اللہ کو پکارو اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے"۔ دعا میں اخلاص اور شرکِ خفی (ریاکاری) سے پاک ہونا قبولیت کی بنیادی شرط ہے۔انبیاء کی صفت: اللہ نے حضرت ابراہیمؑ کی تعریف ان کے کثرت سے دعا کرنے کی وجہ سے فرمائی۔