حرم مقدس حسینی کی عراق میں طبی تاریخ رقم: عالمی سطح پر نایاب مرض میں مبتلا جڑواں بچوں کا کامیاب علاج

حرم مقدس حسینی کے ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن اتھارٹی سے وابستہ "وارث انٹرنیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ" نے جڑواں بچوں کے ایک ایسے کیس کے کامیاب علاج کا اعلان کیا ہے جسے عالمی سطح پر انتہائی نایاب قرار دیا جاتا ہے۔

اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ: "وارث انٹرنیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ نے جڑواں بچوں کے ایک انتہائی نایاب کیس کا کامیاب علاج کیا ہے۔ یہ دونوں جڑواں بچے 7 ماہ کی عمر میں انسٹی ٹیوٹ لائے گئے تھے، جو (ڈاؤن سنڈروم کے ساتھ مائیلوڈ لیوکیمیا - Myeloid Leukemia associated with Down Syndrome) نامی نایاب بیماری میں مبتلا تھے۔ یہ حالت عالمی طبی لٹریچر میں تو موجود ہے، لیکن عراق کی سطح پر یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور بے مثال کیس ہے۔"

وضاحت کی گئی کہ: "چیلنج صرف اس بیماری کی نایابی نہیں تھی بلکہ اس کی پیچیدگیاں بھی تھیں؛ ایک تو بچوں کی عمر بہت کم تھی جس کی وجہ سے ان کے اعضاء ابھی بننے کے مراحل میں تھے، دوسرا ڈاؤن سنڈروم کی وجہ سے جسم کی کیموتھراپی کے خلاف حساسیت بڑھ جاتی ہے۔ مزید یہ کہ دونوں جڑواں تھے، جس کا مطلب یہ تھا کہ ہر بچے کی حالت کے مطابق آزادانہ طور پر الگ الگ علاج کا منصوبہ تیار کرنا ضروری تھا۔"

بیان میں مزید کہا گیا کہ: "طبی ٹیم نے صرف مقامی تجربات پر انحصار کرنے کے بجائے ایک خصوصی علاج کا پروٹوکول تیار کیا جو دقیق نگرانی اور مسلسل جانچ پر مبنی تھا۔ اس میں علاج کی تاثیر اور بچوں کے جسم کی برداشت کے درمیان ایک نازک توازن برقرار رکھا گیا۔ طبی ٹیم نے دوا کی ہر خوراک کا حساب انتہائی احتیاط سے لگایا اور تمام فیصلے سائنسی تجزیات اور اعلیٰ درجے کی مہارت کی بنیاد پر کیے۔"

مزید بتایا گیا کہ: "یہ کوششیں رنگ لائیں اور دونوں بچے مکمل طور پر شفایاب ہو کر اپنے خاندان کے پاس واپس چلے گئے ہیں۔ یہ ایک ایسی کہانی تھی جس کا آغاز شدید پریشانی سے ہوا لیکن انجام انتہائی خوش آئند رہا۔"

واضح رہے کہ حرم مقدس حسینی کی جانب سے اپنی انسانی ہمدردی کی ذمہ داریوں کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کا علاج (وارث فنڈ) کے ذریعے بالکل مفت کیا جاتا ہے، تاکہ بیمار بچوں کو جدید طبی سہولیات فراہم کر کے انہیں دوبارہ ایک نارمل زندگی کی طرف لوٹایا جا سکے۔