معجزہ شق القمر بدست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ

موسوعہ اہل بیت

2015-11-04

3154 مشاہدہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کے عظیم معجزات میں سے ایک معجزہ ہے کہ جب مشرکین مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ سے ایک ایسے فعل کی طلب کی کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوجائیں تاکہ اس فعل کی اساس پر اسلام لے آئیں  اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ نے دعا طلب فرمائی اور چاند دو حصوں میں تقسیم ہوگیا جب کہ اس فعل کے آخر تک بھی وہ ایمان نہ لائے اور  رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ پر نعوذباللہ ساحر ہونے کا الزام لگا دیا۔

لیکن چونکہ اس بات پر وہ یقین رکھتے تھے کہ سحر کا اثر دور تک  مکان بعید تک نہیں ہوتا اسی لئے اپنے شام سے آنے والے قافلے سے تصدیق کا حیلہ بنایا  اور جب قافلے کے پہنچنے پر سوال کیا تو انہوں نے بھی چاند کے تقسیم ہونے کی تصدیق کی اور یہ معجزہ  14 ذی الحجہ  ہجرت سے 5 سال پہلے دست رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ پر پیش آیا ۔

جس کو ابن عباس روایت میں بیان کرتے ہیں کہ

"مشرکین مکہ جمع ہوئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ سے فرمایا کہ اگر آپ سچے ہیں تو  ہمارے لئے چاند کو دو حصوں میں تقسیم کر کے دکھائیں "

تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا : اگر میں ایسا کردوں تو تم ایمان لے آؤگے؟ بولے لے آئیں گے ۔چونکہ یہ چاند کی بدر کی رات تھی ۔

تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ نے اللہ سبحانہ و تعالی ٰ سے ان کی اس طلب کو بیان کیا اور چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے  اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ نے نام لے لے کر فرمایا اے فلاں ۔اے فلاں ۔ گواہی دینا کہ جو طلب کیا تھا میں نے پورا کردیا ۔

اور اسی طرح حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ 14 اشخاص اس رات جمع ہوئے اور رسول کریم صلی اللہ علی وآلہ سے فرمایا کہ کوئی ایسا نبی نہیں آیا کہ جس نے معجزہ نہ دکھایا ہو آپ کے پاس کونسا معجزہ ہے آج کی رات ؟

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا : تم لوگ کیا چاہتے ہو ؟

لوگوں نے کہا : اگر تم اور تمہارا رب سچے ہیں تو چاند کو حکم دو کہ دو حصوں میں تقسیم کردو ۔

حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ آپ پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا سلام ہے اور اس نے ہر چیز کو آپ کے تابع کردیا ہے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ نے سربلند ہوکر چاند کوحکم دیا اور وہ تقسیم ہوگیا  ۔پھر مشرکین نے کہا کہ اس کو اپنی اصلی حالت میں لوٹا دیں تو وی لوٹ گیا جیسا کہ اپنی پہلی حالت میں تھا اور اسی وقت آیہ کریمہ نازل ہوئی

{اقْتَرَبَتِ السّاعَةُ وَانشَقّ الْقَمَر}  

قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔

نئے مواضیع

اکثر شائع

شایدآپ کو بھی پسند آئے