اسلام میں برادران ایمان کی ذمہ داریاں

معارف اسلامیہ

2015-07-29

1949 مشاہدہ

اسلام میں برادران ایمان کی ذمہ داریاں بیان کی گئی ہیں مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ان ذمہ داریوں پر عمل کریں تاکہ محبت کے رشتے اور زیادہ مستحکم ہوجائیں ۔

حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام نے اپنے فرزند سے وصیت کی :

"اپنے برادران ایمانی کے حقوق ، دوستی اور برادری کی بناء پر ضائع نہ کرو۔اگر تم نے کسی کا حق ضائع کردیا تو پھر وہ تمہارا بھائی نہیں ہے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے برادران ایمانی کے حقوق کے بارے میں ارشاد فرمایا:"مومن  کے دوسرے مومن  پر بعض حقوق اس طرح ہیں کہ اس کی دوستی کو اپنے دل میں جگہ دے۔اپنے پس انداز اور مال میں اس کے ساتھ مواساۃ کرے (یعنی اس کی مالی مدد کرے)

اس کی عدم موجودگی میں اس کےگھر کی دیکھ بھال کرے ۔اگر کسی نے اس پر ظلم کیا ہے تواس کی مدد کرے ۔اس کے ساتھ خیانت نہ کرے ۔ضرورت کے وقت اس سے منھ نہ پھیرے۔اس سے جھوٹ نہ بولے۔اس کے ساتھ نازیبا گفتگو نہ کرے کیونکہ اپنے برادر ایمانی سے کوئی ناگوار اور ناپسند جملہ کہے گا تو اس کی دوستی ختم ہوجائیگی ۔

ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں :

ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی پر ظلم نہیں کرتا ۔ضرورت کے وقت اس سے منھ نہیں پھیرتا ۔اس کے حق میں خیانت نہیں کرتا مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ آپسی اتحاد اور میل جول کے لئے محبت اور باہمی تعاون کی بنیاد پر ہمیشہ کوشش کرتے رہیں.

دین اسلام میں برادر ایمانی کے حقوق جس کی بنیاد دین اور ایمان ہے صرف یہی چند نہیں جن کا تذکرہ کیا گیا ہے بلکہ یہ حقوق اس قدر وسیع ہیں کہ زندگی کے تمام گوشوں پر پھیلے ہوئے ہیں

لیکن اسلام کی اس عظیم ذمہ داری کو حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے اس عظیم قول میں بیان کیا جاسکتا ہے

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے برادر ایمانی کے حقوق بیان کرتے ہوئے اپنے صحابی معلی ٰبن خمیس"سے ارشاد فرمایا:

"مسلمان بھائیوں کا  سب سے آسان حق یہ ہے کہ " جو اپنے لئے پسند کرتے ہو وہی ان کے لئے بھی پسند کرو اور جو اپنے لئے ناپسند کرو ہو وہی ان کے لئے بھی ناپسند کرو"

یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اسلام میں دوستی صرف قلبی لگاؤنہیں بلکہ ضروری ہے کہ ہم ان ذمہ داریوں سے بھی واقفیت حاصل کریں جو اسلام نے معین کی ہیں اور جہاں جس ذمہ داری کی ضرورت ہو وہاں برادر ایمانی کے حقوق کا باقاعدہ لحاظ کریں اور اس پر عمل کریں جہاں اسلامی معاشرے کا مفاد متقاضی ہو وہاں ان حقوق پر عمل کرنے میں کوتاہی نہ کریں بلکہ ہمیشہ اسلامی معاشرے کے مفاد کے لئے کوشاں رہیں

اس سلسلے میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ :

"خدا سے ڈرو ، ایک دوسرے کے ساتھ نیک برتاؤ کرو ، ایک دوسرے سے پیار و محبت سے پیش آؤ ۔ایک دوسرے کی ملاقات کو جاؤ۔ ہمارے امر(ہماری ولایت و مودت)کے بارے میں آپس میں گفتگو کرو اور اس کو زندہ رکھو۔

نئے مواضیع

اکثر شائع

شایدآپ کو بھی پسند آئے