حرم مقدس حسینی میں جدید جوہری علاج کی سہولت متعارف، دس سال سے نایاب رسولی میں مبتلا نوجوان کا علاج شروع

حرم مقدس حسینی کے شعبۂ صحت و طبی تعلیم نے شعبۂ طبِ جوہری کے ذریعے ایک اہم طبی کامیابی حاصل کرتے ہوئے نایاب رسولی (Hemangiopericytoma) میں مبتلا نوجوان مریض کے لیے جدید جوہری علاج فراہم کیا ہے۔ مریض گزشتہ تقریباً دس برس سے اس بیماری کا شکار تھا اور مختلف ممالک میں جدید طبی طریقہ ہائے علاج سے استفادہ کرنے کے باوجود اس کی بیماری میں بہتری نہیں آ رہی تھی۔

حرم مقدس حسینی کے شعبۂ صحت و طبی تعلیم کے سربراہ ڈاکٹر حیدر العبادی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مریض گزشتہ دس سال کے دوران مختلف طریقہ ہائے علاج سے گزر چکا تھا، جن میں ریڈی ایشن سرجری، مختلف اقسام کے حیاتیاتی علاج اور مخصوص ہدف پر اثر انداز ہونے والے علاج شامل تھے۔ یہ علاج مختلف ممالک میں کروائے گئے، تاہم اس کے باوجود رسولی پھیلتی رہی، جس کے باعث مزید جدید علاج کے امکانات تلاش کرنا ضروری ہوگیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ مریض کے لیے نئی امید ایک جدید جوہری علاج (Lu-177 FAPI) کی صورت میں سامنے آئی ہے، جو خاص طور پر اس نوعیت کی رسولیوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ علاج اس سے قبل عراق اور خطے میں دستیاب نہیں تھا۔ شعبۂ طبِ جوہری کے ماہرین نے کئی ہفتوں کی مسلسل کوششوں اور ضروری تیاریوں کے بعد اس علاج کی فراہمی ممکن بنائی اور مریض کو یہ سہولت فراہم کی۔

ڈاکٹر حیدر العبادی نے مزید بتایا کہ علاج کے چند ہی گھنٹوں بعد ابتدائی مثبت علامات سامنے آنا شروع ہوگئیں، جب طبی معائنے سے معلوم ہوا کہ رسولی نے تابکار دوا کو جذب کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ ایک حوصلہ افزا اشارہ ہے اور امید ہے کہ اس علاج سے آنے والے دنوں میں رسولی کا خاتمہ یا اس کی افزائش کو روکنے میں مدد ملے گی۔

یہ جدید علاج حرم مقدس حسینی کی جانب سے طبی ٹیکنالوجی متعارف کرانے، خصوصی طبی خدمات کو ترقی دینے اور پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے جدید ترین علاج کے مواقع فراہم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، تاکہ عراق کے مریضوں کو جدید طبی سہولیات کے حصول کے لیے بیرونِ ملک جانے کی ضرورت کم ہو اور انہیں اپنے ملک میں ہی معیاری علاج میسر آسکے۔