حرم مقدس حسینی کے شعبۂ صحت و طبی تعلیم کے زیرِ انتظام مستشفى المجتبى (علیہ السلام) برائے امراضِ خون و بون میرو ٹرانسپلانٹ نے واسط صوبے سے تعلق رکھنے والے 49 سالہ مریض کی جان بچانے میں کامیابی حاصل کی ہے، جو خون کی ایک نایاب اور انتہائی خطرناک بیماری میں مبتلا تھا۔ اس بیماری میں فوری علاج نہ ہونے کی صورت میں شرحِ اموات بہت زیادہ ہوتی ہے۔
اسپتال کے ماہر امراضِ خون ڈاکٹر علاء معروف نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مریض اسپتال پہنچا تو اس کے خون میں پلیٹ لیٹس کی تعداد انتہائی کم تھی، خون کے خلیات ٹوٹ رہے تھے اور اس کے علاوہ اعصابی نظام سے متعلق واضح علامات بھی ظاہر ہو رہی تھیں۔ ان علامات کی بنیاد پر ڈاکٹروں نے تھرومبوٹک تھرومبوسائٹوپینک پرپورا (TTP) نامی بیماری کا شبہ ظاہر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ خون کے نمونے کی فوری جانچ ) سے سرخ خلیات کے ٹکڑوں کی مقدار میں اضافہ سامنے آیا، جس سے بیماری کی سنگینی اور فوری طبی مداخلت کی ضرورت واضح ہوگئی۔
ڈاکٹر علاء معروف کے مطابق طبی ٹیم نے فوری طور پر خون کے پلازما کی تبدیلی کے 10 سیشنز شروع کیے، جن کے نتیجے میں مریض کی طبی حالت اور لیبارٹری رپورٹس میں نمایاں بہتری آئی۔ اس کے ساتھ مریض کو رِٹوکسیماب نامی مخصوص مدافعتی علاج بھی دیا گیا، جس کی مجموعی طور پر 4 خوراکیں ایک ایک ہفتے کے وقفے سے فراہم کی گئیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بروقت علاج کے نتیجے میں اس بیماری سے متعلق شرحِ اموات 90 فیصد سے کم ہو کر 10 سے 20 فیصد تک رہ گئی۔ علاج کے بعد مریض کی حالت میں نمایاں بہتری آئی اور پلیٹ لیٹس کی تعداد میں اضافہ ہوا، جس کے بعد اسے اسپتال سے گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ تاہم، اب بھی اس کی ہفتہ وار بنیادوں پر طبی نگرانی اور ضروری ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب مریض عباس نے حرم مقدس حسینی اور مستشفى المجتبى (علیہ السلام) کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ طبی اور نرسنگ عملے نے 27 روز تک علاج اور مسلسل نگرانی کے دوران غیر معمولی خدمات انجام دیں، جس کے نتیجے میں ان کی صحت بحال ہوئی اور وہ دوبارہ اپنی معمول کی جسمانی حالت میں آگئے۔
یہ کامیابی حرم مقدس حسینی کے زیرِ انتظام طبی اداروں کی اس صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے کہ وہ جدید طبی سہولیات، خصوصی علاج اور تجربہ کار طبی عملے کی مدد سے پیچیدہ اور انتہائی تشویش ناک بیماریوں کا کامیابی سے علاج کر سکتے ہیں اور عراق کے مختلف صوبوں سے آنے والے مریضوں کو طبی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
