اعلیٰ دینی مرجعیت کے نمائندے شیخ عبدالمہدی کربلائی نے مختلف ادیان و مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقوام کے درمیان رواداری، محبت اور پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام آسمانی مذاہب عدل، رواداری اور محبت کی تعلیم دیتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ دینی اداروں کی ذمہ داری صرف عبادات اور مذہبی امور تک محدود نہیں، بلکہ انہیں عوام کے دکھ درد، مشکلات اور ضروریات کا خیال رکھنے اور انہیں پورا کرنے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے عراق میں ویٹیکن کے سفیر اور پوپ کے نمائندے مونسیگنور میروسواف فاخووسکی سے ملاقات کے دوران کیا۔
شیخ عبدالمہدی کربلائی نے کہا:
’’ہم سب کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ ہمارے پاس عقیدہ بھی ہے اور عمل بھی، اور عقیدہ ہی عمل کی بنیاد ہے۔ ہمیں مختلف ادیان و مذاہب کے باوجود اقوام کے درمیان رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں کو فروغ دینے کے لیے کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ ہمارا رب ایک ہے اور تمام آسمانی مذاہب عدل، رواداری اور محبت کے فروغ کی دعوت دیتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا:
’’ضروری ہے کہ ہمارا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ بھی گہرا اور مضبوط ہو اور اسی طرح لوگوں کے ساتھ بھی ہمارا تعلق مخلصانہ اور مستحکم ہو۔ دین میں صرف لوگوں کو نماز اور روزے کی دعوت دینا کافی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ ہم ان کی مشکلات اور تکالیف کو محسوس کریں، ان کے مسائل کو سمجھیں اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔‘‘
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ:
’’ہماری بنیادی ذمہ داری زائرین کی خدمت ہے، لیکن ہمیں عام شہریوں کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں ان کی مشکلات دور کرنے، ان کی صحت کی حفاظت، تعلیم کی فراہمی اور ان کی اخلاقی و روحانی تربیت کے لیے بھی کوشش کرنی چاہیے۔ اسی مقصد کے تحت ہم ضرورت مندوں اور مستحق افراد کو بنیادی سہولیات فراہم کرتے ہیں اور ان کی رہائش، علاج، تعلیم اور امدادی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ بحرانوں کے دوران بھی ان کی مدد کرتے ہیں۔‘‘
