حوزہ علمیہ کے استاد سید رشید الحسینی نے کہا ہے کہ عاشوراء بصیرت اور شعور کا ایک عظیم مدرسہ ہے، اور یونیورسٹی کے طلباء پر لازم ہے کہ وہ عصری چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی مذہبی اور فکری شناخت کو مستحکم بنائیں۔ یہ بات انہوں نے حرم مقدس حسینی کی جانب سے امام حسین (علیہ السلام) کی شہادت کی یاد میں منعقدہ "متحدہ عراقی یونیورسٹی طلباء کے ماتمی جلوس" کے آغاز کے موقع پر کہی۔ اس جلوس میں حوزہ علمیہ کے اساتذہ، تدریسی عملے اور عراق بھر کی یونیورسٹیوں کے (5000) سے زائد طلباء نے شرکت کی۔
عاشوراء.. ذمہ داری کے احساس کو اجاگر کرنے کا موسم:
سید رشید الحسینی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عاشوراء ایک عظیم موسم ہے جس میں سید الشہداء (علیہ السلام) کے ساتھ عہد کی تجدید ہوتی ہے، تاکہ امت کے نفوس میں ذمہ داری، شعور اور بصیرت کی روح بیدار ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ جوانی انسانی زندگی کا اہم ترین مرحلہ ہے، جس میں علمی اور مذہبی ارتقاء کے بے پناہ مواقع ہوتے ہیں، لہٰذا نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اس مرحلے کو اپنی شخصیت سازی اور مستقبل کو سنوارنے کے لیے استعمال کریں۔
بصیرت: حق اور باطل میں تمیز کا پیمانہ:
انہوں نے زور دیا کہ انسان کی حقیقی قدر و قیمت اس کی علمی یا سماجی حیثیت میں نہیں، بلکہ خدا کی بندگی میں ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر پھیلی غلط معلومات اور ثقافتی چیلنجوں سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی جو بظاہر انسانیت یا دین کا نام لیتے ہیں لیکن حقیقت میں گمراہی اور تفرقہ بازی کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے روزِ عاشور امام حسین (علیہ السلام) اور مخالفین کی نمازوں کے فرق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حق اور باطل میں تمیز کے لیے گہری بصیرت کی ضرورت ہے۔
تعلیم کا مقصد اور حسینی مشن کا تسلسل:
سید رشید الحسینی نے طلباء سے مطالبہ کیا کہ وہ تعلیمی اداروں میں اپنی موجودگی کو حسینی میڈیا کا تسلسل بنائیں، کیونکہ علم کی اصل قدر اسی وقت ہے جب وہ تقویٰ اور عملِ صالح کے ساتھ ہو۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کو اپنی اخلاقیات اور رویوں میں معصومین (علیہم السلام) کی سیرت کو عملی طور پر ظاہر کرنا چاہیے۔
حسینی شعائر کا عملی اثر:
انہوں نے آخر میں کہا کہ امام حسین (علیہ السلام) کی تعلیمات کو اصلاح اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ذریعے پورے سال مومن کی زندگی میں حاضر رہنا چاہیے۔ حسینی شعائر (گریہ، ماتم اور جلوس) کا مقصد ایک با شعور حسینی اور زینبی روح کی تعمیر ہونا چاہیے، تاکہ نوجوان نسل فکری اور ثقافتی حملوں کے سامنے ایک مضبوط ڈھال ثابت ہو سکے۔
