مکتبِ عاشورا صرف مصائب تک محدود نہیں، منبرِ حسینی شعور و معرفت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے: نمائندہ مرجعیت عالیہ

اعلیٰ مذہبی قیادت کے نمائندے شیخ عبدالمہدی الکربلائی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حسینی نصب العین کے دو بنیادی ستون ہیں: ایک مخلصانہ جذبات، غم و بکا، اور دوسرا باشعور معرفت۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک ایسا دقیق اور ہوشمندانہ توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے جہاں سچے حسینی جذبات (جیسے عزاداری، نوحہ خوانی، سینه زنی اور مجالس کا انعقاد) اور حسینی مشن کے اصولوں، جڑوں اور اہداف کی گہری معرفت دونوں کو ان کا پورا حق ملے اور ان کا خوبصورت امتزاج سامنے آئے۔ یہ باتیں انہوں نے حرم مقدس حسینی کے گنبد پر پرچم کشائی کی روح پرور تقریب کے دوران اپنے خطاب میں کہیں۔

مرجعیت عالیہ کے نمائندے کا کہنا تھا: "حسینی تحریک میں جذبات اور معرفت کے مابین یہی گہرا تعلق اور ہم آہنگی ہمیں حسینی مہم کے حقیقی اہداف پر عمل پیرا ہونے کے قابل بناتی ہے۔"

انہوں نے مزید وضاحت کی: "ان دونوں ستونوں کے ذریعے ہم فرد اور امت کی اصلاح کر سکتے ہیں اور ان عزاداری کی رسومات کو زندگی کے تمام شعبوں میں فرد اور معاشرے کی تبدیلی کے ایک عملی پروگرام میں بدل سکتے ہیں۔ اسی لیے عاشورا کا مدرسہ صرف سانحے اور جذباتی پہلو تک محدود نہیں ہے—اگرچہ یہ جذباتی پہلو اپنی جگہ ایک اہم ستون ہے—بلکہ یہ اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ آنسو، سینہ زنی، اور مجالس دراصل شعور، معرفت، اسلامی شناخت کی مضبوطی اور ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کا نقطہ آغاز ہیں جس میں حسینی تحریک کے اصول عملی طور پر نظر آئیں۔"

انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ حسینی مشن کے بارے میں آگاہی پھیلانے کا سب سے اہم علمی اور ابلاغی ذریعہ "منبرِ حسینی" ہے۔ اسی لیے اعلیٰ مذہبی قیادت نے مبلغین، خطباء، شعراء اور نوحہ خوانوں کو اہم ہدایات جاری کر کے منبر کے عظیم ترین مقصد کو حاصل کرنے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ان ہدایات کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

1۔ قرآن کریم پر خصوصی توجہ

خطاب میں قرآن کریم کو اولین ترجیح دینا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ یہ پوری انسانیت کے لیے اللہ کا پیغام اور حق و باطل کا ترازو ہے۔ اہل بیت (علہم السلام) کی سیرت اور ان کی قربانیاں اسی قرآن کی تعلیمات کا عملی نمونہ تھیں۔

2۔ مستند عقائد اور اہل بیتؑ کا طرزِ عمل

خطابات میں سچے عقائد کے اصولوں اور ان کے محکم دلائل کو ایسے آسان انداز میں بیان کیا جائے جو عام فہم ہو۔ نبی اکرم (ص) اور ان کی عترت طاہرہ کے خوبصورت اقوال، نہج البلاغہ میں موجود امیر المومنین (ع) کے خطبات، اور کائنات میں اللہ کی نشانیاں اور آخرت کا ذکر کثرت سے کیا جائے۔

3۔ اخلاقی اور عملی وابستگی

اعلیٰ مذہبی قیادت کی ہدایات کے مطابق، عاشورا کی رسومات کے حقیقی احیاء کا مطلب یہ ہے کہ ہم امام حسین (ع) کے اخلاق اور آداب کو اپنی زندگیوں میں اپنائیں۔ اہل بیت (ع) کی تعلیمات پر عملی طور پر کاربند رہا جائے، آپس میں محبت و بھائی چارے کو فروغ دیا جائے، اور دوسرے مذاہب و مسالک کے لوگوں کے ساتھ بھی حسنِ اخلاق سے پیش آیا جائے۔

4۔ اتحاد کی حفاظت اور تفرقہ بازی سے گریز

ایسی تمام باتوں اور موضوعات سے سختی سے پرہیز کیا جائے جو مومنین کے درمیان تفرقہ، اختلاف یا دوری کا سبب بنیں۔ اس کے برعکس، ان کے اتحاد، یکجہتی اور باہمی ہمدردی کو برقرار رکھنے پر پوری توجہ دی جائے۔

5۔ علم و بصیرت کے بغیر بات کرنے کی ممانعت

بغیر علم، تحقیق اور بصیرت کے کوئی بھی بات کرنے سے مکمل اجتناب کیا جائے، کیونکہ دین میں بغیر علم کے بات کرنا قطعی طور پر حرام ہے، خواہ بات کا مواد کچھ بھی ہو۔

شیخ الکربلائی نے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ ہر مبلغ اور تمام مومنین کو اس نصیحت پر عمل کرنا چاہیے کہ وہ خود اپنا احتساب (نفس کا نقد) کریں، خدا کو حاضر و ناظر جانیں، اپنی غلطیوں سے غافل نہ ہوں، اور دوسروں کی مثبت تنقید سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے نفس کے ساتھ انصاف کریں۔ انہوں نے گفتگو، عمل اور کردار میں تقویٰ اور خلوصِ نیت کی تاکید کی، تاکہ ہر عمل صرف اور صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے ہو۔