حرم مقدس حسینی کے جنرل سیکرٹریٹ نے عاشورہ کے مراسم کی کامیابی کے ساتھ تکمیل کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پلان پر عمل درآمد اور اس کی میدانی نگرانی مرجعیتِ عالیہ کے نمائندے علامہ شیخ عبدالمہدی کربلائی اور حرمِ حسینی کے جنرل سیکرٹری محترم حسن رشید جواد العبایجی نے خود کی، جس میں حرمِ مقدس کے تمام شعبوں نے حصہ لیا۔ اس مشترکہ کوشش کی بدولت "رکضۃ طویریج" کے لازوال ماتمی جلوس کے دوران لاکھوں عزاداروں کی آمد و رفت انتہائی پرسکون اور رواں انداز میں ممکن ہو سکی۔
جنرل سیکرٹریٹ نے اپنے ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ "اللہ تعالیٰ کی مشیئت، لطف و کرم اور حفظ و امان کے سائے میں، ہم اس سال عاشورہ کے خصوصی پلان کی کامیابی کا اعلان کرتے ہیں"۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ "اس سال کا پلان انتہائی لچکدار تھا اور اس میں جدید تربیت یافتہ ماہر عملے کی خدمات حاصل کی گئیں، جس کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں آنے والے زائرین کے رش کو کسی بھی قسم کی بدنظمی، بھگدڑ یا دم گھٹنے کے واقعے کے بغیر، انتہائی اچھے طریقے سے سنبھالا گیا"۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ "حرم مقدس حسینی کی انتظامیہ نے کئی ماہ قبل ہی "رکضۃ طویریج" کے ماتمی جلوس کو کامیاب بنانے کے لیے ایک جامع پلان تیار کرنا شروع کر دیا تھا، جس کی براہِ راست نگرانی مرجعیتِ عالیہ کے نمائندے علامہ شیخ عبدالمہدی کربلائی اور حرم مقدس حسینی کے جنرل سیکرٹری محترم حسن رشید جواد العبایجی کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں انجینئرنگ کے کاموں کی رفتار دگنی کر کے چوبیس گھنٹے مسلسل کام کیا گیا تاکہ بابِ قبلہ امام حسین (علیہ السلام) کی طرف جانے والے راستوں کو وسیع کیا جا سکے؛ اس مقصد کے لیے صحنِ امام حسن (علیہ السلام) کی چھت کی ڈھلائی کا کام کیا گیا اور منصوبے کے ایڈوانس مراحل کو مکمل کیا گیا"۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ "پلان کی کامیابی صرف رکضۃ طویریج کے جلوس کی تنظیم تک محدود نہیں تھی ، بلکہ اس میں عاشورہ کے وہ تمام مراسم شامل تھے جو یکم محرم الحرام کی رات غم کی سیاہ راج کو تبدیل کرنے کی تقریب سے شروع ہوئے تھے اور 13 محرم الحرام (شہدائے کربلا کے اجسادِ طاہرہ کی تدفین کے دن) تک جاری رہیں گے، جس کے فوراً بعد ہی زیارتِ اربعین کی تیاریاں شروع کر دی جائیں گی"۔
واضح کیا گیا کہ "یہ پلان صرف سیکیورٹی اور تنظیمی پہلوؤں تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس میں خدمات اور صحت کے وسیع محور بھی شامل تھے۔ جن میں ٹھنڈے پانی کی فراہمی، زائرین کے آرام کے لیے مخصوص جگہوں کی تیاری، درجہ حرارت کو کم کرنے کے لیے واٹر مسٹ فین اور فوگ کیننز کی تنصیب کے ساتھ ساتھ ایک مکمل میڈیکل پلان پر عمل درآمد، زائرین کو کھانا کھلانے کے لیے مضیفِ امام حسین (علیہ السلام) کی چوبیس گھنٹے تیاری اور دیگر متنوع خدمات کا ایک بڑا پیکیج شامل تھا"۔
بیان میں اشارہ کیا گیا کہ "اس سال عاشورہ کے مراسم میں عراق کے اندر اور باہر سے آنے والے عزاداروں اور زائرین کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی"۔ مزید تاکید کی گئی کہ "حرمِ حسینی کے اندر چوبیس گھنٹے جاری رہنے والے مراسم انتہائی روانی کے ساتھ مکمل ہوئے، جبکہ درجہ حرارت میں شدید اضافے کے باوجود رکضۃ طویریج کے جلوس میں بہترین نظم و ضبط دیکھنے کو ملا اور اس دوران بھگدڑ یا دم گھٹنے کا کوئی ایک واقعہ بھی درج نہیں ہوا"۔
جنرل سیکرٹریٹ نے اپنے بیان کے آخر میں "ان تمام اداروں اور جہات کا تہہ دل سے شکریہ اور ممنونیت کا اظہار کیا جنہوں نے زیارت کے مراسم کو کامیاب بنانے میں اپنا حصہ ڈالا۔ جن میں سب سے پہلے حسینی اور عباسی دونوں مقدس حرموں کی انتظامیہ، وفاقی حکومت، مقامی حکومت، تمام وزاراتیں اور خدماتی ادارے، سیکیورٹی فورسز کے تمام شعبے، حسینی مواکب، میڈیا کے نمائندے، رضاکار اور خود زائرینِ کرام شامل ہیں، جن کی عظیم کوششوں نے عاشورہ کے مراسم کو اس شاندار کامیابی سے ہمکنار کیا"۔
جنرل سیکرٹریٹ، حرم مقدس حسینی
10 محرم الحرام 1448 ہجری
مطابق: 26 جون 2026ء
