حرم مقدس حسینی کے ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن اتھارٹی کے تحت ہیلتھ کرائسز سینٹر کے ایمرجنسی سینٹرز ڈیپارٹمنٹ نے عاشورہ اور "رکضہ طویریج" (طویریج دوڑ) کے انتظامات کے حصے کے طور پر ایک جامع ہیلتھ ایمرجنسی پلان پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔
ڈیپارٹمنٹ کے انچارج ڈاکٹر مکی عطار نے بتایا کہ: "اس پلان کے تحت 3 فیلڈ ہسپتال اور تین جدید ایمرجنسی سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جنہیں امام حسین علیہ السلام کے صحنِ مبارک کے اندر اور باہر زائرین کے شدید رش والے علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے، تاکہ دسویں محرم اور رکضہ طویریج کے دوران طبی اور امداوی خدمات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔"
انہوں نے وضاحت کی کہ: "اس پلان میں مخصوص انخلاء (ایویکیویشن) اور فوری ایمرجنسی پوائنٹس کی تعیناتی بھی شامل ہے، جو لاکھوں کے مجمعے سے ہنگامی کیسز کو منتقل کرنے اور انہیں قریبی ایمرجنسی سینٹرز یا فیلڈ ہسپتالوں تک پہنچانے کا کام کریں گے، تاکہ فوری رسپانس کو یقینی بنایا جا سکے اور طبی خدمات تک پہنچنے کا وقت کم سے کم ہو۔"
انہوں نے مزید بتایا کہ: "اس پورے ہیلتھ سسٹم کو 'ہیلتھ کرائسز مینجمنٹ سسٹم' سے منسلک آپریشنز مینجمنٹ روم کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، جو موبائل پیرامیڈیکس (پیدل چلنے والے امدادی عملے) کی براہ راست ٹریکنگ، ایمرجنسی سینٹرز اور فیلڈ ہسپتالوں کی کارکردگی کی نگرانی، میڈیکل کیسز کا ریکارڈ رکھنے اور صورتحال کے مطابق فیلڈ ٹیموں کی رہنمائی کا ذمہ دار ہے۔"
ڈاکٹر مکی عطار نے اشارہ کیا کہ: "اس پلان میں عراق اور بیرونِ ملک سے بڑی تعداد میں رضاکار طبی اور نرسنگ عملے نے شرکت کی ہے، جس نے عاشورہ اور رکضہ طویریج کے دوران زائرین کو فراہم کی جانے والی طبی اور انسانی خدمات کو ہینڈل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔"
واضح رہے کہ حرم مقدس حسینی کی ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن اتھارٹی نے دسویں محرم الحرام اور رکضہ طویریج کے لیے ایک مکمل ہیلتھ پلان تیار کیا ہے، جس کے تحت زائرین کی آمد و رفت کے اہم راستوں اور محوروں پر فیلڈ ہسپتال، ایمرجنسی سینٹرز اور میڈیکل کیمپس تعینات کیے گئے ہیں تاکہ بہترین علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
