مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا

امام حسین علیہ السلام کا جو قرض اور احسان اسلام کی حفاظت، بقا اور انسانیت کی سربلندی پر ہے، اسے لفظی یا مادی معنوں میں کبھی نہیں اتارا جا سکتا۔ انہوں نے وہ قربانی دی جس کی کائنات میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے اپنا سب کچھ نچھاور کر کے دینِ محمدیؐ کو ایک نئی زندگی عطا کی۔

اگرچہ ہم اس عظیم قرض کو اتارنے کی طاقت نہیں رکھتے، لیکن ایک سچے محب اور پیروکار ہونے کی حیثیت سے ہم پر کچھ بہت اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، جنہیں پورا کرنا ہی ہمارے عشق اور وفاداری کا ثبوت ہے۔

ہماری بنیادی ذمہ داریاں

ایک حسینی ہونے کے ناطے ہمیں اپنی زندگیوں میں درج ذیل پہلوؤں پر توجہ دینی چاہیے:

۱. مقصدِ کربلا کو سمجھنا اور اپنانا

امام حسین علیہ السلام کا سفر حکومت حاصل کرنے کے لیے نہیں تھا، بلکہ انہوں نے خود فرمایا تھا: "میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح اور امر بالمعروف (نیکی کا حکم دینے) اور نہی عن المنکر (برائی سے روکنے) کے لیے نکلا ہوں"۔

ہمارا فرض: اپنے کردار، گفتار اور معاشرے کی اصلاح کرنا۔ ہر قسم کے ظلم، جھوٹ اور ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونا، خواہ وہ کسی بھی سطح پر ہو۔

۲. نماز اور احکامِ دین کی پابندی

کربلا کا سب سے بڑا درس بندگیِ خدا ہے۔ امامؑ نے عصرِ عاشور تیروں کے سائے میں بھی نمازِ باجماعت ترک نہیں کی۔

ہمارا فرض: اسلام کے ارکان (نماز، روزہ، زکوٰۃ، اخلاق) پر سختی سے عمل کرنا۔ اگر ہم حسینی کہلاتے ہیں، تو ہماری زندگی میں احکامِ الہی کی پابندی نظر آنی چاہیے۔

۳. عزاداری کو شعور کے ساتھ زندہ رکھنا

امام حسینؑ پر رونا، عزاداری قائم کرنا اور ذکرِ اہلبیتؑ کرنا ایک عظیم عبادت اور بقائے دین کا ذریعہ ہے۔ لیکن یہ عزاداری صرف رسم تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔

ہمارا فرض: مجلسوں اور عزاداری سے وہ شعور حاصل کریں جو ہمیں بیدار کرے۔ امامؑ کی مظلومیت پر آنسو بہانے کے ساتھ ساتھ ان کے عزم، حوصلے اور اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

۴. کردار کی پاکیزگی (حسینی بننا)

امام حسینؑ کا قرض ادا کرنے کی کوشش کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے اخلاق کو ایسا بنائیں کہ لوگ ہمیں دیکھ کر کہیں کہ "یہ حسینؑ کا ماننے والا ہے"۔

ہمارا فرض: امانت داری، سچائی، یتیموں اور غریبوں کی مدد، اور حقوق العباد کی ادائیگی۔ کسی کا دل نہ دکھانا اور معاشرے کے لیے نفع بخش انسان بننا۔

۵. وقت کے یزید اور باطل کو پہچاننا

یزیدیت صرف 1400 سال پہلے ایک شخص کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک بدترین سوچ اور نظریے کا نام ہے جو ہر دور میں موجود رہتا ہے (جہاں بھی ظلم، ناانصافی، اور انسانی حقوق کی پامالی ہو)۔

ہمارا فرض: اپنے دور کے باطل اور ظالم نظریات کو پہچاننا، مظلوموں کا ساتھ دینا اور کبھی بھی ظلم کے سامنے سر نہ جھکانا (جیسے امامؑ نے فرمایا: "مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا").
خلاصہ:
ہم امامؑ کا احسان اتار تو نہیں سکتے، لیکن ان کے بتائے ہوئے راستے (صراطِ مستقیم) پر چل کر، دینِ اسلام کی سچی پیروی کر کے اور انسانیت کی خدمت کر کے ان کے مشن کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ یہی ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔