کربلاء معلیٰ میں "تکایا" (واحد: تکیہ) کی تاریخ اور ان کا قیام، عزاداریِ امام حسین علیہ السلام اور یہاں کی مقامی ثقافت کا ایک انتہائی اہم اور منفرد حصہ ہے۔ اگرچہ لفظ "تکیہ" صوفی ازم اور عثمانی دورِ حکومت سے جڑا ہوا ہے، لیکن کربلا میں اس کا مفہوم اور استعمال بالکل الگ شکل اختیار کر گیا۔
کربلاء میں تکیہ کا مطلب صوفی خانقاہ نہیں، بلکہ ایک مخصوص عزاخانہ، مرکزِ خدمت (مواکب کا ابتدائی روپ) اور ایک ایسی جگہ ہے جہاں محرم اور صفر کے مہینوں میں عزاداری قائم کی جاتی ہے اور زائرین کی خدمت کی جاتی ہے۔
کربلا میں تکایا کی تاریخ، ارتقا اور اہمیت کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
۱. لفظ "تکیہ" کا پس منظر اور کربلائی مفہوم
لفظ "تکیہ" کے لغوی معنی "سہارا لینے کی جگہ" کے ہیں۔
عثمانی اور صوفی دور: عثمانی سلطنت کے دور میں تکیہ اس جگہ کو کہا جاتا تھا جہاں درویش، صوفیاء اور مسافر قیام کرتے تھے، عبادت کرتے تھے اور وہاں لنگر چلتا تھا۔کربلائی اصطلاح: جب یہ ثقافت عراق خصوصاً کربلا پہنچی، تو کربلا کے غیور عوام نے اسے خالصتاً حسینی رنگ دے دیا۔ کربلا میں تکیہ سے مراد وہ عارضی یا مستقل ڈھانچے ہیں جو محرم الحرام کا چاند نظر آتے ہی شہر کے مختلف محلوں (اطراف)، بازاروں اور گلیوں میں قائم کیے جاتے ہیں۔ یہ مراکز عزاداریِ سید الشہداء کے لیے وقف ہوتے ہیں۔۲. کربلا میں تکایا کی تاریخ اور قیام
کربلا میں تکایا کے قیام کی باقاعدہ اور منظم تاریخ عثمانی دور اور خصوصاً 19ویں صدی کے اواخر سے ملتی ہے۔
کربلا کے قدیم محلے (جنہیں اطرافِ کربلا کہا جاتا ہے، جیسے: طرف باب بغداد، طرف باب الخان، طرف المخيم، طرف باب السلالمة وغیرہ) اپنے اپنے تکیے قائم کرتے تھے۔
قدیم ترین تکیہ کی مثال: کربلا کے قدیم ترین تکیوں میں "تکیہ طرف باب بغداد" شامل ہے، جس کی بنیاد تقریباً 1886ء میں رکھی گئی۔ یہ وہ دور تھا جب کربلا کو مختلف بیرونی حملوں سے بچانے کے لیے ایک بڑا حفاظتی سور (دیوار) بنایا گیا تھا، اور بابِ بغداد اس کا اہم ترین دروازہ تھا۔ اس محلچے کے لوگوں نے یکجہتی اور دفاع کے ساتھ ساتھ حسینی عزاداری کو منظم کرنے کے لیے اس تکیے کی بنیاد رکھی۔
۳. تکایا کی روایتی سجاوٹ اور بناوٹ
کربلا کے روایتی تکیوں کی سجاوٹ اپنی مثال آپ ہوتی ہے، جس میں غم اور عقیدت کا ایک خوبصورت امتزاج نظر آتا ہے:
لکڑی کے ڈھانچے اور آئینوں کا کام (المرايا): پرانے وقتوں میں تکیے لکڑی کے بڑے بڑے ستونوں اور تختوں سے تیار کیے جاتے تھے۔ ان کے اندرونی حصوں کو قیمتی آئینوں (Mirrors) اور شیشے کے روایتی کام سے سجایا جاتا تھا جو روشنی کو منعکس کرتے تھے۔ لالٹین اور فوانیس (اللالات): بجلی کی ایجاد سے پہلے، ان تکیوں کو روشن کرنے کے لیے خاص قسم کے مٹی کے تیل کے لیمپ اور لالٹین استعمال کیے جاتے تھے، جنہیں مقامی زبان میں "لالہ" (اللالات) کہا جاتا ہے۔ یہ لالٹینز خاص طور پر اس دور میں روس اور ہندوستان سے منگوائی جاتی تھیں تاکہ روشنی تیز اور خوبصورت ہو۔ رنگ برنگے پرچم اور کتبے: تکیے کے باہر سیاہ کپڑے (علامتِ غم)، جبکہ اندرونی حصوں میں سبز (علامتِ اسلام و اہل بیت) اور سرخ (علامتِ خونِ مظلوم) پرچم اور مخملی کتبے لٹکائے جاتے ہیں۔۴. تکایا کے بنیادی وظائف (یہ کیوں قائم کیے جاتے ہیں؟)
کربلا میں قائم ہونے والے تکیے بنیادی طور پر تین بڑے مقصد پورے کرتے ہیں:
عزاداری اور ماتم کا مرکز: ہر تکیہ اپنے علاقے کے ماتمی دستے (مواکب العزاء) کا ہیڈکوارٹر ہوتا ہے۔ رات کے وقت یہاں مجالسِ عزا برپا ہوتی ہیں اور زنجیر زنی و سینہ زنی کے لیے ماتمی یہیں جمع ہوتے ہیں۔زائرین کی مہمان نوازی (لنگر و سبیل): تکیوں میں دن رات زائرین کے لیے کھانا پکایا جاتا ہے، چائے، پانی اور شربت کی سبیلیں لگائی جاتی ہیں۔ قدیم زمانے میں جب ہوٹل نہیں ہوتے تھے، تو دور دراز سے آنے والے زائرین انہی تکیوں میں رات گزارتے تھے۔سماجی یکجہتی : ان تکیوں کا پورا خرچہ کسی ایک فرد کا نہیں ہوتا، بلکہ محلے کے تمام لوگ، چاہے وہ امیر ہوں یا غریب، اپنی بساط کے مطابق اس میں حصہ ڈالتے ہیں۔ یہ کربلا کے لوگوں کے آپسی اتحاد کی علامت ہے۔۵. صدام دور میں پابندی اور جدید ارتقا
کربلا کے تکیوں نے تاریخ میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھے:
صدام حکومت کا دورِ ستم: بعثی حکومت (صدام دور) کے دوران کربلا کے ان روایتی تکیوں پر سخت پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ لکڑی کے ڈھانچے نصب کرنے کی اجازت نہیں تھی اور علانیہ عزاداری ممنوع تھی۔ اس دور میں کربلا کے لوگوں نے اس ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے اپنے گھروں کے اندر خفیہ تکیے اور مجالس قائم کیں اور چھپ کر لنگر تقسیم کرتے رہے۔سقوطِ صدام کے بعد (جدید دور): سقوطِ صدام کے بعد، یہ تکیے پوری شان و شوکت کے ساتھ دوبارہ کربلا کی گلیوں میں لوٹ آئے۔ آج کل روایتی لکڑی اور لالٹینوں کی جگہ جدید لائٹنگ، اسکرینوں اور بڑے مواکب نے لے لی ہے، لیکن کربلا کے قدیمی بازاروں (جیسے سوق العباس، سوق ابن الحمزة) میں آج بھی محرم کی پہلی رات پرانے طرز کے تکیے دیکھے جا سکتے ہیں جو ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔کربلا کے یہ تکیے محض عارضی خیمے یا لکڑی کے ڈھانچے نہیں ہیں، بلکہ یہ اس لازوال محبت اور وفاداری کی تاریخی دستاویز ہیں جو کربلا کے باسیوں کو نسل در نسل اپنے مظلوم امامؑ سے ورثے میں ملی ہے۔
