تدابیر الہیہ اور اہل ذکر

معارف اسلامیہ

2019-08-06

120 مشاہدہ

ہشام ابن حکم سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ مصر کے ایک زندیق کے پاس حضرت امام جعفر الصادق علیہ السلام کی علمیت کی اطلاع پہنچی تو وہ آپ علیہ السلام سے مناظرہ کے لئے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوا مگر امام علیہ السلام کو وہاں نہ پایا سوال کرنے پر معلوم ہوا کہ آپ مکہ مکرمہ کی طرف تشریف لے گئے ہیں پس وہ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوا اور اسی اثناء میں ہم امام جعفر صادق علیہ السلام کے ہمراہ تھے اور وہ زندیق ہمارے پاس آن پہنچا اور آپ کے قریب آیا اور سلام عرض کی ۔

امام صادق علیہ السلام نے سوال کیا : تمہارا نام کیا ہے؟

زندیق نے کہا :عبدالملک

آپ علیہ السلام نے سوال کیا کہ تمہاری کنیت کیا ہے ؟

زندیق نے کہا : ابو عبداللہ

آپ علیہ السلام نے فرمایا : وہ کون سا بادشاہ ہے کہ جس کے تم بندے ہو؟کیا وہ زمینوں کا بادشاہ ہے یا آسمانوں کا؟اور اپنے بیٹے کے بارے میں بتاؤ کہ وہ کس کا بندہ ہے اور کس اللہ کی عبادت کرتا ہے کوئی زمین کا خدا ہے یا آسمان کا؟

یہ سوال سن کر زندیق ساکت ہوگیا امام علیہ السلام نے فرمایا جواب دو مگر کوئی جواب نہ دے سکا ۔

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا جب طواف سے فراغت ہو تو ہمارے پاس آنا پس جب آپ علیہ السلام نے طواف مکمل کیا تو وہ پاس آیا

امام علیہ السلام نے فرمایا:کیا تم جانتے کی یہ زمین فوق و تحت ہے ؟

زندیق نے کہا : ہاں

امام علیہ السلام نے فرمایا:کیا تم اس تحت کے نیچے گئے ہو؟

زندیق نے کہا :نہیں

امام علیہ السلام نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ زمین کے نیچے کیا ہے؟

 زندیق نے کہا : نہیں مگر میرا خیال ہے کہ اس کے نیچے کچھ نہیں ہے

امام علیہ السلام نے فرمایا جب تک تمہیں یقین نہیں تم لاعلم ہو پھر فرمایا کیا تم آسمان پر چڑھے ہو؟

زندیق نے کہا :نہیں

امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو اس کے اندر کیا پوشیدہ ہے ؟

زندیق نے کہا :نہیں

امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم نے مشرق اور مغرب کے پا دیکھا ہے کہ کیا تم سے پنہاں ہے؟

زندیق نے کہا :نہیں

امام علیہ السلام نے فرمایا: عجب بات کرتے ہو نہ تم آسمان پر گئے ہو نہ ہی اس کے اسرار کا علم رکھتے ہو نہ مشرق و مغرب کے پنہاں اسرار سے عالم ہو پھر کیا عقلمند انسان اس چیز کے علم کا دعویدار ہوسکتا ہے جس کے بارے میں علم نہ رکھتا ہو ؟

زندیق نے کہا :آپ علیہ السلام کے علاوہ آج تک کسی نے میرے ساتھ ایسی باتیں نہیں کیں۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا :اس کا مطلب تم ان میں سے ہو جو شک کی حالت میں ہیں کہ یہ ہو سکتا ہے یا نہیں۔

زندیق نے کہا :شاید

امام علیہ السلام نے فرمایا : اے انسان سن لو کہ جو نہیں جانتا وہ علم رکھنے والے پر حجت نہیں ہوسکتا اور جاہل کی حجت عالم پر نہیں ہوسکتی کیا تم نہیں دیکھتے کہ سورج اور چاند اور رات اور دن ایک دوسرے پر سبقت نہیں کرتے بلکہ جاتے اور لوٹتے ہیں اور اس کے علاوہ ان کا کوئی مکان نہیں وگرنہ کبھی ایسا ہوتا کہ دن رات اور رات دن میں تبدیل ہوجاتے اے میرے مصری بھائی یہ جو دہر میں آپ دیکھتے ہیں کہ آسمان اور زمین اپنی ترتیب میں مرتب ہیں کون ہے جو ان کو بھیجتا اور لوٹاتا ہے اور اگر ان کو لوٹاتا ہے تو بھیجتا ہی کیوں ہے اور آسمان کی طرف نظر کروتو پتہ چلے گا کہ بلند وضع کیا گیا ہے اور زمین کی ایک جگہ معین ہے کہ یہ ایک دوسرے پر نہیں گرتے اور زمین اپنی جگہ معین ہے اس کا اییک ہی خالق اللہ تعالیٰ ہے جس نے ان کو تدبیر کیا ہے ۔

یہ بات سنتے ہی زندیق حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے دست مبارک پر ایمان لے آیا تو امام صادق علیہ السلام نے ہشام سے فرمایا اسے اپنی شاگردی میں لے لو ۔

نئے مواضیع

اکثر شائع

شایدآپ کو بھی پسند آئے