کیا معصوم مسلوب ارادہ ہوتے ہیں

معارف اسلامیہ

2019-10-12

197 مشاہدہ

کیا عصمت کا مطلب معصوم گناہ کرنے کے قابل نہیں؟ اگر ایسا فرض کرلیا جائے کہ معصوم سے گناہ کرنے کی قدرت سلب کر لی گئی ہے تو اس صورت میں گناہوں کا ترک ہونا معصوم کے نزدیک قابل فخر نہ ہوتی ۔

عصمت کسی ذات سے گناہوں کے ارتکاب کو سلب نہیں کرتی چاہے ہم اسکی تفسیر اس طرح بھی کریں کے تقویٰ کے درجہ کمال پر فائض ہے یا گناہوں اور نافرمانی کے عذاب کا قطعی علم ہونے کے باعث ، یا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عظمت اور محبت کو درک کرتا ہو پس اس کے باوجود بھی اپنے افعال میں ادائیگی پر قدرت رکھتا ہو اور ترک کرنے کی قوت رکھتا ہو ۔

حسی لحاظ سے اس بات کو اس طرح تشریح کر سکتے ہیں کہ بے شک انسان میں عقل موجود ہے اور اسی کو استعمال کرتے ہوئے بجلی کی تاروں کو ننگے ہاتھ نہیں لگائے گا اور اسی طرح کسی معتدی مرض میں مبتلا شخص سے دوری اختیار کرے گا یہاں تک کہ وہ ان دونوں افعال پر قادر ہے ٹھیک اسی طرح اللہ تعالیٰ نے افعال سے اجتناب کی قدرت کو رکھا ہے ۔

اسی دلیل پر کہ اللہ تعالیٰ سے محبت و عظمت اور تقویٰ کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ گناہوں سے بیزارئ قطعی کرنے اور ان سے اجتناب کرتا ہے .

قرآن کریم کی نظر میں

"اور ہم نے ان کو مقبول بنایا اور ہم نے ان کو راہ راست کی ہدایت کی یہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے اس پر چلاتا ہے جس کو چاہے انے بندوں میں سے اور اگر یہ لوگ شرک کرتے تو البتہ ضائع ہوجاتا جو کچھ انہوں نے کیا تھا "

اگر قدرت فعل بد سلب کی گئی ہوتی تو "اگر یہ لوگ شرک کرتے " کیوں ذکر کیا جاتا۔

اس کے ساتھ آیت بلاغ

"اے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ! ان تک پہنچا دو جو تم پر نازل کیا گیا ہے اور اگر نہ پہنچایا"

یہاں بھی قابل ذکر دلیل موجود ہے کہ "اگر نہ پہنچایا " کیونکہ اگر قدرت سلب کی گئی ہوتی یہ کلام عبث ہوتا

نئے مواضیع

اکثر شائع

شایدآپ کو بھی پسند آئے