نمائندہ مرجعیتِ اعلیٰ کا نینویٰ کے عوام کو بہترین طبی خدمات فراہم کرنے کے عزم کا اظہار

نمائندہ مرجعیتِ اعلیٰ شیخ عبد المہدی کربلائی نے نینویٰ صوبے کے معززین اور شہریوں پر مشتمل وفد سے ملاقات کے دوران صوبے کے عوام کو بہترین طبی اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے حرم مقدس حسینی کی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

نمائندہ مرجعیتِ اعلیٰ نے کہا کہ صوبہ نینویٰ مختلف قومیتی اور سماجی طبقات پر مشتمل ہے، جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اب ہم آہنگی، باہمی محبت، امید، امن اور استحکام کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ داعش دہشت گرد تنظیم سے نجات حاصل کرنے کے لیے صوبے کے عوام نے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ صوبے کے عوام کو ان کے مطلوبہ اہداف کے حصول میں کامیابی عطا فرمائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حرم مقدس حسینی صوبے کے عوام کو طبی اور صحت کی خدمات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، بالخصوص ایسے مریضوں کو جو علاج کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ عراق کے اندر اور بیرون ملک سے مختلف طبی تخصصات کے ماہرین کی خدمات دستیاب ہیں، جبکہ ضرورت کے مطابق مقدس شہر کربلا سے طبی ٹیمیں بھی نینویٰ روانہ کی جا سکتی ہیں، تاکہ مطلوبہ طبی شعبہ جات میں مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

شیخ عبد المہدی کربلائی نے مزید کہا کہ موصل میں جن مریضوں کا علاج ممکن نہ ہو، انہیں علاج کے لیے حرم مقدس حسینی کے اسپتالوں میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس میں وہ مریض بھی شامل ہیں جنہیں پیچیدہ جراحی آپریشنز کی ضرورت ہو، جبکہ ایسے مریضوں کو بھی بیرون ملک کے تخصصی طبی اداروں میں علاج کے لیے بھیجنے کا امکان موجود ہے جن کا علاج عراق میں ممکن نہ ہو۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ السفير اسپتال کے ذمہ داران کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنایا جائے، تاکہ ان طبی خدمات کا دائرہ موصل شہر کے مرکزی علاقوں اور اس سے ملحقہ اضلاع تک وسیع کیا جا سکے۔