حرم مقدس حسینی کے شعبۂ انجینئرنگ و فنی منصوبہ جات کی جانب سے صوبۂ بابل میں آٹزم (Autism) سینٹر کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اس منصوبے کا مقصد اعلیٰ ترین انجینئرنگ اور فنی معیارات کے مطابق ایک جدید طبی و بحالی مرکز قائم کرنا ہے، جہاں آٹزم سے متاثرہ بچوں کو خصوصی علاج اور تربیت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
شعبۂ انجینئرنگ و فنی منصوبہ جات نے جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے تعمیراتی کام تیز رفتاری سے جاری ہے، تاکہ اسے مقررہ فنی اور انجینئرنگ معیارات کے مطابق مکمل کیا جا سکے۔
بیان کے مطابق اس منصوبے کا مجموعی رقبہ 12 ہزار مربع میٹر ہے، جبکہ عمارت پانچ منزلوں اور ایک تہہ خانے پر مشتمل ہوگی۔
منصوبے کی تعمیر میں عالمی معیارات کو مدنظر رکھا گیا ہے، خصوصاً آٹزم سے متاثرہ بچوں کی نفسیاتی اور ذہنی کیفیت کے پیش نظر ایسا ماحول تشکیل دیا جا رہا ہے جو ان کے علاج، تربیت اور بحالی کے لیے موزوں ہو۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اس مرکز میں درج ذیل سہولیات شامل ہوں گی:
- کوکلیئر امپلانٹ (Cochlear Implant) کے لیے خصوصی شعبہ۔
- آٹزم سے متاثرہ بچوں کے لیے علیحدہ شعبہ۔
- ہائیڈرو تھراپی (پانی کے ذریعے علاج) کے لیے خصوصی ہال۔
- انفرادی علاج کے کمرے۔
- جدید طبی لیبارٹریاں۔
- جدید ترین طبی طریقہ ہائے علاج کے مطابق سہولیات۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ صوبۂ بابل کے بڑی تعداد میں بچوں کو فائدہ پہنچائے گا اور انہیں خصوصی علاج، بحالی اور صلاحیتوں کی نشوونما کے مواقع فراہم کرے گا۔
یہ منصوبہ بچوں کے لیے ایک جامع تعلیمی اور بحالی ماحول کی فراہمی کے اسٹریٹجک وژن کا حصہ ہے، جس کے ذریعے جدید عالمی معیارات کے مطابق نگہداشت اور خصوصی خدمات کو فروغ دیا جائے گا۔
