حرم مقدس حسینی کے مرکز الحیات میں الجزائر کی بچی کے آنکھوں کے مہلک سرطان کو غیر فعال کرنے میں کامیابی

حرم مقدس حسینی کے شعبۂ صحت و طبی تعلیم سے وابستہ بین الاقوامی وارث ادارہ برائے علاجِ سرطان کے خصوصی مرکز الحیات نے الجزائر سے تعلق رکھنے والی ایک بچی کے مہلک سرطانِ شبکیہ کو غیر فعال کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

یہ کامیابی کیموتھراپی کی دوا کو براہِ راست رسولی کو خون فراہم کرنے والی شریانوں تک پہنچانے کے لیے تین مرتبہ کیتھیٹرائزیشن کے عمل کے ذریعے حاصل ہوئی۔ الجزائر میں اس مخصوص طریقۂ علاج کی سہولت دستیاب نہ ہونے کے باعث بچی کو خصوصی علاج کے لیے مرکز الحیات لایا گیا تھا۔

بچوں میں خون اور سرطان کی امراض کی ماہر ڈاکٹر اسیل رشید نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بچی بتول مرکز آنے سے قبل الجزائر میں کیموتھراپی کی 12 خوراکیں حاصل کر چکی تھی، تاہم اسے مزید خصوصی علاج کی ضرورت تھی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ بچی کی حالت کے پیشِ نظر کیتھیٹر کے ذریعے کیموتھراپی کی دوا براہِ راست آنکھ کی شریان تک پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا، کیونکہ یہ جدید طبی تکنیک الجزائر میں دستیاب نہیں ہے۔ طبی ٹیم نے رسولی پر قابو پانے کے لیے بچی کے تین مرتبہ کیتھیٹرائزیشن کے عمل کے ذریعے کیموتھراپی کی دوا پہنچائی۔

دوسری جانب، ابن الہیثم اسپتال میں بچوں کی امراضِ چشم کی ماہر ڈاکٹر ختام الحسن نے بتایا کہ بچی تقریباً پانچ ماہ قبل ان کے پاس معائنے کے لیے آئی تھی۔ اس وقت وہ دونوں آنکھوں میں مہلک سرطانِ شبکیہ میں مبتلا تھی۔ الجزائر میں اس کی ایک آنکھ نکالی جا چکی تھی، جبکہ دوسری آنکھ میں رسولی فعال تھی، تاہم اس کی بینائی کی صلاحیت اچھی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بچی کو بیماری پر قابو پانے کے لیے مختلف علاج دیے گئے، لیکن رسولی بدستور فعال رہی، جس کے باعث کیتھیٹر کے ذریعے کیموتھراپی کا خصوصی طریقہ اختیار کرنا پڑا۔ طبی معائنے سے بھی اس طریقۂ علاج کی ضرورت کی تصدیق ہوئی۔

ڈاکٹر ختام الحسن کے مطابق، مرکز الحیات میں کیتھیٹر کے ذریعے علاج کامیابی سے مکمل کیا گیا، جس کے بعد رسولی نے مثبت ردِعمل ظاہر کیا اور بالآخر غیر فعال ہو گئی۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ بچی کی حالت پر نظر رکھنے اور بیماری کے استحکام کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدہ طبی معائنے اور مسلسل نگرانی ضروری ہے۔

یہ کامیابی حرم مقدس حسینی کی جانب سے بچوں کو خصوصی طبی سہولیات فراہم کرنے اور پیچیدہ بیماریوں کے علاج میں جدید طبی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد علاج کے نتائج بہتر بنانا اور بچوں کی بینائی کی صلاحیت کو محفوظ رکھنا ہے۔