حرم مقدس حسینی کے زیرِ انتظام امام زین العابدینؑ اسپتال نے اعلان کیا ہے کہ اس کے طبی عملے نے افغانستان سے تعلق رکھنے والی 28 روزہ بچی کی ایک انتہائی پیچیدہ اور حساس سرجری کامیابی سے انجام دی۔
بچی کھوپڑی کی ایک نادر پیدائشی خرابی میں مبتلا تھی، جس کے باعث دماغی بافتیں اور دماغ کو ڈھانپنے والی جھلی کی تھیلی کے اجزا سر سے باہر نکل آئے تھے، جس سے ایک بہت بڑا ابھار بن گیا تھا، جو تقریباً اس کے سر کے برابر حجم رکھتا تھا۔ حرم مقدس حسینی نے بچی کے علاج کے تمام اخراجات برداشت کیے۔
اسپتال کے بیان کے مطابق، ابھار کا غیر معمولی حجم اور بچی کی انتہائی کم عمر طبی ٹیم کے لیے ایک بڑا چیلنج تھے۔ نوزائیدہ بچوں میں بے ہوشی اور جراحی کے دوران سنگین خطرات کے پیشِ نظر اس کیس میں غیر معمولی مہارت، تجربے اور انتہائی احتیاط کی ضرورت تھی۔
بیان میں بتایا گیا کہ سرجری کے دوران متاثرہ بافتوں کو نکالنے، دماغی جھلی کی تھیلی کی دوبارہ مرمت، کھوپڑی کے کناروں کی اصلاح اور جلد کو بند کرنے سمیت کئی حساس مراحل مکمل کیے گئے۔ یہ آپریشن کامیابی سے انجام پایا اور بچی کے اہم جسمانی افعال کو محفوظ رکھا گیا۔
اسپتال نے مزید کہا کہ آپریشن کے تمام اخراجات حرم مقدس حسینی کی ہدایت اور سرپرستی میں برداشت کیے گئے۔ یہ اقدام نادر اور سنگین بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی مدد اور عراق سمیت بیرونِ ملک سے آنے والے مریضوں کو خصوصی طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے جاری انسانی خدمات کا حصہ ہے۔
یہ کامیابی حرم مقدس حسینی کی ان طبی اور انسانی کوششوں کا تسلسل ہے جن کا مقصد جدید طبی سہولیات اور ماہر طبی عملے کی مدد سے پیچیدہ اور تشویش ناک طبی حالات میں مبتلا مریضوں کی جان بچانا اور ضرورت مند افراد کے لیے علاج کے مواقع بہتر بنانا ہے۔
