حرم مقدس حسینی سے وابستہ دیوانیہ میں شعبۂ فکری و ثقافتی سرگرمیوں نے منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مرکز میں ایک تربیتی لیکچر بعنوان ’’ماضی اور حال کے درمیان… تاریکی سے روشنی کی طرف‘‘ پیش کیا، جس میں 65 زیرِ علاج افراد نے شرکت کی۔
اس لیکچر کا مقصد شرکاء کی نفسیاتی اور فکری بحالی میں معاونت کرنا، مثبت تبدیلی کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور انہیں بہتر مستقبل کی تعمیر کی ترغیب دینا تھا۔
شعبے کے جاری کردہ بیان کے مطابق، لیکچر میں ماضی کے تجربات کا جائزہ لینے اور ان سے سبق حاصل کرکے زندگی کے لیے نئی راہیں متعین کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ شرکاء کو اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے، خود اعتمادی بڑھانے اور عزم و ذمہ داری کے ساتھ مشکلات کا مقابلہ کرنے کی ترغیب بھی دی گئی۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ لیکچر میں ذاتی صلاحیتوں کو فروغ دینے، تبدیلی کے لیے جذبہ پیدا کرنے اور اپنے مستقبل کے بارے میں مثبت سوچ اپنانے کے لیے مختلف تربیتی اور حوصلہ افزا مشقیں بھی شامل تھیں۔ اس کے علاوہ درست فیصلے کرنے اور ماضی کے تجربات کو سیکھنے اور نئی زندگی شروع کرنے کے مواقع کے طور پر استعمال کرنے کی اہمیت اجاگر کی گئی۔
لیکچر میں دینی اور تربیتی مضامین سے بھی استفادہ کیا گیا۔ قرآنی آیات، احادیثِ مبارکہ اور اہلِ بیت علیہم السلام سے منقول ایک سبق آموز واقعے کے ذریعے امید، صبر، عزم اور اخلاقی اقدار کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا، تاکہ شرکاء مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے مثبت تبدیلی کی جانب بڑھ سکیں۔
شعبے نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں زیرِ علاج افراد میں زندگی کے بارے میں مثبت سوچ، اپنی ذات اور معاشرے کے تئیں ذمہ داری کے احساس اور بحالی و ذاتی ترقی کے پروگراموں سے بھرپور استفادے کی ترغیب دیتی ہیں۔
یہ لیکچر حرم مقدس حسینی کے شعبۂ فکری و ثقافتی سرگرمیوں کی جانب سے جاری تربیتی اور آگاہی پروگراموں کا حصہ ہے، جن کا مقصد فکری و ثقافتی شعور کو فروغ دینا، نفسیاتی اور انسانی پہلوؤں کو تقویت دینا اور زیرِ علاج افراد کو معاشرے میں مثبت طور پر دوبارہ شامل ہو کر پُرسکون، متوازن اور ذمہ دارانہ زندگی گزارنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
