حرم مقدس حسینی سے وابستہ امام زین العابدینؑ اسپتال نے 20 سالہ خاتون کے انتہائی نایاب طبی کیس کی کامیاب تشخیص اور علاج کا اعلان کیا ہے۔ خاتون کو 15 ہفتوں تک جاری رہنے والے رحم سے باہر حمل کی تشخیص ہوئی، جسے لیپروسکوپک سرجری کے ذریعے نکال دیا گیا اور بچہ دانی کو مکمل طور پر محفوظ رکھا گیا۔
اسپتال کی ماہر امراضِ نسواں و زچگی ڈاکٹر زینب مرتضیٰ نے بتایا کہ مریضہ اپنے پہلے حمل کے دوران اسپتال پہنچی۔ اس سے قبل ایک دوسرے اسپتال میں کیے گئے معائنے میں بتایا گیا تھا کہ تقریباً چار ماہ کی عمر میں جنین کی موت واقع ہو چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال میں کیے گئے تفصیلی معائنے اور الٹراساؤنڈ سے معلوم ہوا کہ بچہ دانی مکمل طور پر خالی تھی، تاہم اس کے باہر ایک غیر معمولی جسم موجود تھا۔
طبی ٹیم نے فوری طور پر پیٹ کے ذریعے لیپروسکوپک معائنہ کیا، جس کے دوران معلوم ہوا کہ بچہ دانی کی بیرونی سطح پر رحم کی ایک اضافی دیوار نما ساخت موجود تھی، جس کے اندر تقریباً چار ماہ کا مردہ جنین موجود تھا۔
ڈاکٹر زینب کے مطابق یہ امراضِ نسواں و زچگی کے شعبے میں انتہائی نایاب کیسز میں شمار ہوتا ہے۔ اس کیس کی مزید غیر معمولی بات یہ تھی کہ حمل 15 ہفتوں تک جاری رہا اور بچہ دانی پھٹے بغیر اتنی دیر سے اس کی تشخیص ہوئی۔
طبی ٹیم نے غیر معمولی جسم کو کامیابی سے نکال دیا اور مریضہ کی بچہ دانی کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ ممکنہ سنگین طبی پیچیدگیوں سے بھی بچا لیا۔
یہ کامیابی حرم مقدس حسینی کے طبی اداروں کی جانب سے جدید تخصصی طبی خدمات کی فراہمی اور ماہر طبی عملے کو متحرک کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس کے ذریعے عراق کے مختلف صوبوں سے آنے والے مریضوں کو جدید اور جامع طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
