ميسان میں آٹزم اسپیکٹرم کے شکار بچوں کے علاج و بحالی مرکز کی تعمیر جاری

حرم مقدس حسینی کے شعبہ منصوبہ جاتِ اسٹریٹجک نے صوبہ ميسان میں آٹزم اسپیکٹرم کے شکار بچوں کے علاج اور بحالی کے لیے قائم کیے جانے والے خصوصی مرکز کے منصوبے پر کام جاری رہنے کی اطلاع دی ہے۔

منصوبے کے ڈائریکٹر انجینئر علی عبدالمہدی عبد اللطیف نے بتایا کہ یہ مرکز چار منزلوں پر مشتمل ہوگا، جس میں علاج، تعلیم، بحالی اور تفریح کے لیے مختلف سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ گراؤنڈ فلور پر استقبالیہ، ڈاکٹروں کے لیے 5 کمرے، اجلاس ہال، نگرانوں کے لیے 2 کمرے، سوئمنگ پول، فزیوتھراپی ہال، آکسیجن روم، بچوں کے لیے کھیل کا ہال، اسپیچ تھراپی اور بچوں کے خاندانوں کی تربیت کے لیے 6 ہال، آکیوپیشنل تھراپی ہال، 5 لفٹس اور دیگر ضروری سہولیات شامل ہوں گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پہلی منزل پر نماز گاہ، بچوں کے خاندانوں کی تربیت و رہنمائی کے لیے 2 ہال، خصوصی ضروریات رکھنے والے افراد کے لیے 2 کمرے، خواتین نگرانوں کے لیے 11 کمرے، اسپیچ تھراپی کے لیے 2 ہال، 2 آرٹ اسٹوڈیوز، کچن اور بچوں کے لیے ریسٹورنٹ، کمپیوٹر سرگرمیوں کے لیے 2 ہال، اسٹورز اور دیگر سہولیات ہوں گی۔

دوسری منزل پر 6 کلاس رومز، کمپیوٹر ہال، کچن اور ریسٹورنٹ، نگرانوں کے لیے 2 کمرے، فزیوتھراپی ہال، انتظامی و مالی دفاتر، اجلاس ہال اور دیگر ضروری سہولیات شامل ہوں گی۔

جبکہ تیسری منزل پر 9 کلاس رومز، کمپیوٹر ہال، نگرانوں کے لیے 2 کمرے اور بچوں کے لیے ایک مکمل تفریحی شہر قائم کیا جائے گا، اس کے علاوہ اسٹورز اور دیگر ضروری سہولیات بھی موجود ہوں گی۔

حرم مقدس حسینی کے مطابق یہ منصوبہ آٹزم اسپیکٹرم کے شکار بچوں کے لیے خصوصی طبی، تعلیمی اور بحالی خدمات کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد بچوں کی نگہداشت اور بحالی کے لیے ایک جامع ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے خاندانوں کو ضروری رہنمائی اور معاونت فراہم کرنا ہے۔