حرم مقدس حسینی کے ادارۂ صحت و طبی تعلیم کے زیرِ انتظام مجتبیٰ (ع) ہسپتال برائے امراضِ خون و بون میرو ٹرانسپلانٹ نے عراق میں پہلی مرتبہ فانکونی انیمیا (Fanconi Anemia) میں مبتلا ایک بچے کا نایاب بون میرو ٹرانسپلانٹ کامیابی سے انجام دینے کا اعلان کیا ہے۔
ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مؤید الجنابی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجتبیٰ (ع) ہسپتال نے عراق کی سطح پر پہلی مرتبہ فانکونی انیمیا میں مبتلا ایک بچے کا کامیاب بون میرو ٹرانسپلانٹ کیا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ آپریشن مکمل طور پر حرم مقدس حسینی کے خرچ پر انجام دیا گیا، جس پر تقریباً 60 ہزار امریکی ڈالر لاگت آئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حرم مقدس حسینی بچے کے ایک سال تک تمام ضروری طبی معائنے اور مفت طبی فالو اَپ کے اخراجات بھی برداشت کرے گا، تاکہ اس کی حالت مستحکم رہے اور صحت یابی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی صحت کے شعبے کی حمایت کے لیے حرم مقدس حسینی کی مسلسل کاوشوں کا حصہ ہے۔ حرم مقدس حسینی بچوں کے لیے مخصوص تقریباً 99 فیصد جراحی آپریشنز کے اخراجات مکمل طور پر مفت برداشت کرتا ہے، تاکہ خاندانوں پر علاج کے بھاری مالی اخراجات کا بوجھ کم کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال کے طبی عملے کی مسلسل کامیابیوں کے باعث طبی خدمات کو مزید وسعت دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ اعلیٰ دینی مرجعیت کے نمائندے شیخ عبدالمہدی کربلائی کی ہدایات کی روشنی میں دنیا کا سب سے بڑا بون میرو ٹرانسپلانٹ کا خصوصی مرکز قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جس میں 100 بستروں کی گنجائش ہوگی۔
دوسری جانب ہسپتال کی بون میرو ٹرانسپلانٹ کی ماہر ڈاکٹر انتصار الشمری نے بتایا کہ سجاد نامی بچہ صوبہ مثنیٰ سے تعلق رکھتا ہے اور وہ موروثی فانکونی سنڈروم کے باعث بون میرو فیل ہونے کا شکار تھا۔ وہ مکمل طور پر خون اور پلیٹ لیٹس کی منتقلی پر انحصار کر رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ بون میرو ٹرانسپلانٹ کے ذریعے بیمار بون میرو کو صحت مند بون میرو سے تبدیل کرنے کے بعد بچے کے جسم میں خون کے خلیات کی پیداوار معمول کے مطابق بحال ہو جائے گی، جس سے صحت یاب ہونے کے بعد اسے دوسرے صحت مند بچوں کی طرح معمول کی زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔
حرم مقدس حسینی اپنے زیرِ انتظام طبی اداروں کو جدید ترین ٹیکنالوجی اور طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے مسلسل معاونت جاری رکھے ہوئے ہے، تاکہ معاشرے کے مختلف طبقات، خصوصاً بچوں اور مستحق خاندانوں کو اعلیٰ معیار کی خصوصی طبی خدمات مفت فراہم کی جا سکیں۔
